Mualim-ul-Irfan - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور آپ تذکرہ کریں ہمارے بندوں ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کا جو ہاتھوں اور آنکھوں والے ۔
(بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ) گذشتہ درس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) ان کے صبر اور پھر ان کے انعامات کا ذکر ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں بعض دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا ابرھیم واسحق ویعقوب “۔ اور آپ ذکر کریں ہمارے بندوں ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کا اسحاق (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اور یعقوب (علیہ السلام) آپ نے پوتے ہیں ، یہ سارے ہی اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں گذشتہ آیات میں مذکورہ انبیاء کی طرح اس انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے کہ اس پر بھی مصائب وآلام آئے مگر انہوں نے صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھا لہذا اے پیغمبر ﷺ آخر الزمان ﷺ ، آپ بھی صبر و استقامت کو اختیار کیے رکھیں کفار ومشرکین کے طعنہ زنی سے مشتعل نہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسی چیز پر کامیابی کا دارومدار ہے ۔ اس آیت میں مذکورہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ابتلا تو ضرب المثل بن چکی ہے جسے ساری دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ اہل بابل نے آپ پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے آپ کو ملک بدر کرنے کی دہمکیاں دیں کیسی کیسی بدسلوکی کی حتی کہ بالکل ختم کردینے کا منصوبہ بنایا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام تدبیروں کو ناکام بنایا ، پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو ہجرت کا حکم ہوا اور آپ نے اپنا وطن چھوڑ دیا اور شام و فلسطین میں آباد ہوگئے پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیوی بچے کو بےیارومدد گار صحرا میں چھوڑ دیا پھر اسی بچے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا ، تو آپ اس آزمائش میں بھی پورے اترے فرمایا آپ ان کا تذکرہ کریں اور ان کے ساتھ ان کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا بھی ، اللہ تعالیٰ کے ان نبیوں نے اپنے اپنے زمانے میں اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور اس راستے میں آنے والی ہر تکلیف کو برداشت کیا ۔ (ہاتھوں اور آنکھوں والے انبیاء کرام علیہ السلام) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تعریف یہ فرمائی ہے (آیت) ” اولی الایدی والا بصار “۔ کہ دو ہاتھوں اور آنکھوں والے لوگ تھے ہاتھ اور آنکھیں تو ہر شخص کے جسم کے آلات ضروریہ ہیں انسان ہاتھ کام کرنے بہت بڑا ذریعہ ہیں جب کہ آنکھوں کے ذریعہ انسان اشیاء کو دیکھنا ہے اس بصارت کو رپورٹ دماغ میں پہنچتی ہے ، دماغ اس مشاہدے کو سمجھتا ہے اور اس طرح انسان کو علم حاصل ہوتا ہے گویا آنکھیں حصول علم کا بہت بڑا ذریعہ ہیں سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسئولا “۔ (آیت 36) کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کان ، آنکھ اور دل جیسے اعضائے رئیسہ عطا فرمائے اور ان کی کارکردگی کے متعلق قیامت والے دن باز پرس ہوگی ، امام رازی (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر دو قسم کی قوتیں رکھی ہیں یعنی قوت علمی اور قوت علمی یا نظری قوت عملی کا مظہر ہاتھ ہیں ، کیونکہ تمام کام ہاتھوں سے انجام دے جاتے ہیں اور قوت علمی یا نظر ہی آنکھوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے انسان آنکھوں کے ذریعے دیکھ کر غور وفکر کرتا ہے ، عقل کو بروئے کار لاتا ہے اور پھر کسی نتیجے پر پہنچتا ہے تو یہاں پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق فرمایا کہ وہ ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ بندوں میں قوت عملی اور قوت علمی یافکری کمال درجے کی تھی ، عام انسانوں کی نسبت اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و شعور اور فہم و فراست بھی زیادہ عطا فرمایا تھا ، اور عملی لحاظ سے بھی وہ بلند ترین مقام پر فائز تھے ۔ علامہ زمخشری (رح) کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم اس طرح سمجھ لیں کہ جو لوگ ہاتھوں اور آنکھوں کی قوی کو صحیح طور پر تسلیم کرتے ہیں جائز امور کو انجام دیتے ہیں اور منہیات سے بچتے ہیں ، وہی اصل میں ہاتھوں اور آنکھوں والے ہیں جو ان اعضاء کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے وہ گویا ان اعضاء سے ہی محروم ہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” ان شر الدوآب عند اللہ الصم البکم الذین لا یعقلون “۔ (الانفال ، 32) بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدتر بہرے اور گونگے وہ لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے اگر یہ لوگ عقل و شعور کو بروئے کا لاتے تو کفر وشرک جیسی مہلک بیماری میں مبتلا نہ ہوتے ، کفر وشرک تو عقل کے بھی خلاف ہیں اور فطرت سلیمہ کے بھی خلاف ہیں ، فرمایا (آیت) ” یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا ، وھم عن الاخرۃ ھم غفلون “۔ (الروم ، 7) یہ لوگ دنیا کی ظاہری زندگی کو تو خوب جانتے ہیں اس کے ہر اچھے برے عمل سے واقف ہیں مگر آخرت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ، بلکہ بالکل غافل ہیں وجہ وہی ہے کہ یہ اپنی قوت عملی اور قوت علمی یا فکری سے صحیح طور پر مستفید نہیں ہوتے ، اس کے برخلاف مذکورہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق فرمایا کہ وہ ان قوی کو بالکل صحیح صحیح طریقے سے استعمال کرتے تھے گویا وہ صحیح معنوں میں ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے وہ کمال درجے کی قوت عملی اور قوت نظری کے مالک تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس صلاحیت کی تعریف فرمائی ہے ۔ (عصمت انبیاء کرام علیہ السلام) اگلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق دو دلائل بیان فرمائے ہیں ، عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ ان سے گناہ نہیں سرزد ہونے دیا جاتا ، فرشتے تو سارے ہی معصوم ہیں ، البتہ انسانوں میں سے یہ شرف صرف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو حاصل ہے معتزلہ قسم کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبیوں سے بڑے گناہ تو سرزد نہیں ہوتے البتہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہوجاتے ہیں مگر اس ضمن میں تمام مفسرین ، محدثین ، محققین اور اہل حق کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی تمام صغائر ، کبائر سے پاک ہوتے ہیں ، دراصل گناہ وہ ہوتا ہے جو قصد اور ارادے کے ساتھ کیا جائے مگر نبی کے متعلق ایسی بات سوچی بھی نہیں جاسکتی ، البتہ معمولی درجے کی لغزش ہوسکتی ہے جو خطائے اجتہادی کے درجے میں آتی ہے لیکن نبیوں کو اس پر بھی سخت گرفت ہوجاتی ہے بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ایسی لغزشوں پر انہوں نے لیے ظلم اور گناہ کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں اور پھر اپنے لیے استغفار بھی کرتے ہیں وہ حقیقی گناہ نہیں ہوتے بلکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام معمولی کوتاہیوں کو بھی بہت بڑا سمجھتے ہوئے ان لغزشوں کی معافی طلب کرتے نظر آتے ہیں یہ چیز ان کے مقام رفیع کی دلیل ہے ۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر ’ بیان القرآن “ میں رقم طراز ہیں کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے نہ تو حقیقی گناہ سرزد ہوتا ہے اور نہ ان کو حقیقی سزا ملتی ہے بظاہر تو یہ گناہ نظر آتا ہے مگر یہ بلا ارادہ وقصد معمولی لغزش ہوتی ہے جہاں تک سزا کا تعلق ہے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی یہ ابتلائیں بھی جسمانی حد تک محدود ہوتی ہیں جب کہ حقیقی سزا تو وہ ہے جو مجرموں کو آخرت میں ملے گی ۔ (عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر پہلی دلیل) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے متعلق پہلی دلیل یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ “ ہم نے ان کو ممتاز کیا ہے ایک خاص خصلت کے ساتھ اور وہ خصلت ہے (آیت) ” ذکری الدار “۔ آخرت کے گھر کی یاد ، یہ نبیوں کی خصوصیت ہے کہ ان کے پیش نظر ہمیشہ آخرت کا گھر ہوتا ہے اور وہ اس کو کسی طرح بھی فراموش نہیں کرتے ، عام آدمی کی پوری زندگی تو بسا اوقات آخرت کی یاد سے خالی گزر جاتی ہے اور وہ اسے زندگی بھر فراموش کیے رہتے ہیں مگر اللہ کے نبیوں کا دل ایک لمحہ بھر کے لیے بھی آخرت کے گھر کی یاد سے خالی نہیں ہوتا اور انہیں ہمیشہ اسی گھر کی فکر رہتی ہے یہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہر گناہ سے محفوظ اور معصوم ہوتے ہیں ۔ سورة الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے کئی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کرکے فرمایا ہے (آیت) ” یدعوننا رغبا ورھبا ، وکانوا لنا خشعین “۔ (آیت : 90) یہ لوگ ہمیں امید اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کا اظہار کیا کرتے تھے خود حضور خاتم النبیین ﷺ کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے (1) (ابوداؤد ص 4 ، ج 1) ” کان رسول اللہ یذکر اللہ فی کل احیانہ “۔ کہ حضور ﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی یاد کیا کرتے تھے اور اس سے کسی وقت بھی غافل نہیں ہوتے تھے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو بندے اس کی طرف اس قدر رغبت رکھے والے ہوں اور اس سے اس قدر ڈرنے والے ہوں ان سے گناہ کیسے سرزد ہو سکتا ہے ان کی آخرت کے گھر کے یاد ہی ان کی عصمت کی دلیل ہے ۔ (دوسری دلیل) اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کی عصمت کی دوسری دلیل یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” وانھم عندنا لمن المصطفین الاخیار “۔ اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور اچھے لوگوں میں سے ہیں ، یہ منتخب کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جس ذات میں مطلوبہ استعداد اور صلاحیت پاتا ہے اس کو نبوت و رسالت کے لیے خود منتخب فرماتا ہے گویا نبوت کوئی کسبی چیز نہیں ہے کہ کوئی شخص ڈگریاں پاس کرکے ، کوئی کورس پاس کر کے یا عبادت و ریاضت کرکے منصب نبوت پر فائز ہوجائے ، بلکہ یہ تو خالصتا اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی ہستی کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب نہیں کرے گا جس سے قصد و ارادہ کے ساتھ گناہ کا احتمال ہو سکتا ہو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” انی اصطفیتک علی الناس برسلتی وبکلامی “۔ (الاعراف ، 144) میں نے تم کو منصب رسالت کے ساتھ منتخب فرمایا اور پھر تمہیں شرف تکلم بھی بخشا ہے پس جو میں نے عطا کیا ہے اس کو پکڑ لو اور میرا شکر بجا لاؤ ، اس سے بھی معلوم ہوا کہ رسالت ونبوت اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے اور یہ ایسی بہترین شخصیت کا ہوتا ہے جس سے گناہ سرزد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، یہ عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دوسری دلیل ہوگئی ۔ (مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کی تشریح) بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے سلسلہ کے لوگوں میں ایک ممتاز شخصیت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کمال درجے کا علم وعقل و شعور عطا فرمایا تھا مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) مفکر اور حکیمانہ فکر کے مالک ہو کر باریک حقیقتیں صرف اہل ایمان کو سمجھا سکتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے مولانا نانوتوی (رح) کو وہ صلاحیت بخشی تھی کہ اپنے تو اپنے وہ ہندو اور عیسائی جیسے اغیار کو بھی اسلام کے غامض حقائق سمجھا سکتے تھے ، شاہجہان پور کے تاریخی جلسہ میں جہاں ہندؤوں اور عیسائیوں نے اپنے اپنے مذہب کی صداقت بیان کی وہاں مولانا نے اسلام کی حقانیت پر مدلل تقریر کی جسے تمام لوگوں نے اعلی ترین تقریر تسلیم کیا ۔ حضرت مولانا نانوتوی (رح) (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ (النسائ : 59) والی آیت سے عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو ثابت کیا ہے ، فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو ہر حالت میں بغیر کسی قید اور شرط کے ہر مسلمان پر مطلقا فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خالق ، مالک اور معبود برحق ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت بحیثیت مالک فرض ہے ، اسی طرح اس آیت کی رو سے رسول کی اطاعت بحیثیت رسالت فرض ہے ، اگر نبی سے گناہ کا امکان ہوتا تو اس کی اطاعت اس طرح مطلقا فرض نہ ہوتی ، اللہ تعالیٰ کا نبی غلطی سے مبرا ہوتا ہے لہذا اسکی اطاعت ہر حالت میں لازم ہے گویا یہ بھی عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دلیل ہے ۔ حضور ﷺ بعض اوقات خوشگوار مزاح بھی فرماتے تھے ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے عرض کیا ، حضور ﷺ آپ اللہ تعالیٰ کے نبی ہو کر مزاح کرتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! مگر میری زبان سے اس وقت بھی حق ہی نکلتا ہے ، عام قاضی اور جج کے متعلق تو حضور ﷺ کا فرمان ہے ” لا تحکم بین الناس وانت غضبان “ کے غصے کی حالت میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے مگر اپنے متعلق فرمایا کہ میرا فیصلہ ہر حالت میں ناطق ہوتا ہے آپ نے حضرت زبیر ؓ اور ایک انصاری ؓ کے تنازعہ میں غصے کی حالت میں فیصلہ کیا تھا مگر اس میں بھی غلطی کا کوئی امکان نہیں تھا گویا یہ بھی عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دلیل ہے ۔ (مولانا مودودی (رح) کی غلطی) اس مسئلہ میں مولانا مودودی (رح) صاحب نے غلطی کی ہے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے اپنی حفاظت کو اٹھا کر ان سے ایک دو غلطیاں بھی سرزد کردیتا ہے تاکہ لوگوں کو علم ہوجائے کہ آپ معبود نہیں بلکہ انسان اور بشر ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بشریت رسالت کے بہت سے لوازمات خود قرآن میں بیان کردیے ہیں مثلا یہ کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نکاح کرتے ان کی بیویاں ہوتی ہیں اور پھر اولاد بھی ہوتی ہے وہ کھانا کھاتے ہیں اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں ، وہ بیماری بھی ہوتے اور شہید بھی ہوتے ہیں ان سب چیزوں سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نبی انسان ہوتا ہے ان حقائق کی موجودگی میں نبی کو بشریت ثابت کرنے کے لیے اس سے غلطیاں سرزد کرانا قرین قیاس معلوم نہیں ہوتا ، دوسری بات یہ ہے کہ اگر نبی سے عصمت کو اٹھا لیا جائے خواہ تھوڑی دیر کے لیے ہی تو پھر تو نبی پر سے اعتماد ہی اٹھ جائے گا ، کہ نہ جانے فلاں بات اللہ تعالیٰ کے نبی نے کس حالت میں فرمائی ہے اور کیا یہ حقیقت ہے کیا غلطی ، لہذا نبی کے لیے عصمت کا ہونا ضروری ہے ۔
Top