Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ
: اور یاد کریں
عِبٰدَنَآ
: ہمارا بندوں
اِبْرٰهِيْمَ
: ابراہیم
وَاِسْحٰقَ
: اور اسحاق
وَيَعْقُوْبَ
: اور یعقوب
اُولِي الْاَيْدِيْ
: ہاتھوں والے
وَالْاَبْصَارِ
: اور آنکھوں والے
اور آپ تذکرہ کریں ہمارے بندوں ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کا جو ہاتھوں اور آنکھوں والے ۔
(بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ) گذشتہ درس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) ان کے صبر اور پھر ان کے انعامات کا ذکر ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں بعض دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا ابرھیم واسحق ویعقوب “۔ اور آپ ذکر کریں ہمارے بندوں ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کا اسحاق (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اور یعقوب (علیہ السلام) آپ نے پوتے ہیں ، یہ سارے ہی اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں گذشتہ آیات میں مذکورہ انبیاء کی طرح اس انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے کہ اس پر بھی مصائب وآلام آئے مگر انہوں نے صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھا لہذا اے پیغمبر ﷺ آخر الزمان ﷺ ، آپ بھی صبر و استقامت کو اختیار کیے رکھیں کفار ومشرکین کے طعنہ زنی سے مشتعل نہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسی چیز پر کامیابی کا دارومدار ہے ۔ اس آیت میں مذکورہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ابتلا تو ضرب المثل بن چکی ہے جسے ساری دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ اہل بابل نے آپ پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے آپ کو ملک بدر کرنے کی دہمکیاں دیں کیسی کیسی بدسلوکی کی حتی کہ بالکل ختم کردینے کا منصوبہ بنایا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام تدبیروں کو ناکام بنایا ، پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو ہجرت کا حکم ہوا اور آپ نے اپنا وطن چھوڑ دیا اور شام و فلسطین میں آباد ہوگئے پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیوی بچے کو بےیارومدد گار صحرا میں چھوڑ دیا پھر اسی بچے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا ، تو آپ اس آزمائش میں بھی پورے اترے فرمایا آپ ان کا تذکرہ کریں اور ان کے ساتھ ان کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا بھی ، اللہ تعالیٰ کے ان نبیوں نے اپنے اپنے زمانے میں اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور اس راستے میں آنے والی ہر تکلیف کو برداشت کیا ۔ (ہاتھوں اور آنکھوں والے انبیاء کرام علیہ السلام) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تعریف یہ فرمائی ہے (آیت) ” اولی الایدی والا بصار “۔ کہ دو ہاتھوں اور آنکھوں والے لوگ تھے ہاتھ اور آنکھیں تو ہر شخص کے جسم کے آلات ضروریہ ہیں انسان ہاتھ کام کرنے بہت بڑا ذریعہ ہیں جب کہ آنکھوں کے ذریعہ انسان اشیاء کو دیکھنا ہے اس بصارت کو رپورٹ دماغ میں پہنچتی ہے ، دماغ اس مشاہدے کو سمجھتا ہے اور اس طرح انسان کو علم حاصل ہوتا ہے گویا آنکھیں حصول علم کا بہت بڑا ذریعہ ہیں سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسئولا “۔ (آیت 36) کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کان ، آنکھ اور دل جیسے اعضائے رئیسہ عطا فرمائے اور ان کی کارکردگی کے متعلق قیامت والے دن باز پرس ہوگی ، امام رازی (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر دو قسم کی قوتیں رکھی ہیں یعنی قوت علمی اور قوت علمی یا نظری قوت عملی کا مظہر ہاتھ ہیں ، کیونکہ تمام کام ہاتھوں سے انجام دے جاتے ہیں اور قوت علمی یا نظر ہی آنکھوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے انسان آنکھوں کے ذریعے دیکھ کر غور وفکر کرتا ہے ، عقل کو بروئے کار لاتا ہے اور پھر کسی نتیجے پر پہنچتا ہے تو یہاں پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق فرمایا کہ وہ ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ بندوں میں قوت عملی اور قوت علمی یافکری کمال درجے کی تھی ، عام انسانوں کی نسبت اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و شعور اور فہم و فراست بھی زیادہ عطا فرمایا تھا ، اور عملی لحاظ سے بھی وہ بلند ترین مقام پر فائز تھے ۔ علامہ زمخشری (رح) کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم اس طرح سمجھ لیں کہ جو لوگ ہاتھوں اور آنکھوں کی قوی کو صحیح طور پر تسلیم کرتے ہیں جائز امور کو انجام دیتے ہیں اور منہیات سے بچتے ہیں ، وہی اصل میں ہاتھوں اور آنکھوں والے ہیں جو ان اعضاء کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے وہ گویا ان اعضاء سے ہی محروم ہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” ان شر الدوآب عند اللہ الصم البکم الذین لا یعقلون “۔ (الانفال ، 32) بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدتر بہرے اور گونگے وہ لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے اگر یہ لوگ عقل و شعور کو بروئے کا لاتے تو کفر وشرک جیسی مہلک بیماری میں مبتلا نہ ہوتے ، کفر وشرک تو عقل کے بھی خلاف ہیں اور فطرت سلیمہ کے بھی خلاف ہیں ، فرمایا (آیت) ” یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا ، وھم عن الاخرۃ ھم غفلون “۔ (الروم ، 7) یہ لوگ دنیا کی ظاہری زندگی کو تو خوب جانتے ہیں اس کے ہر اچھے برے عمل سے واقف ہیں مگر آخرت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ، بلکہ بالکل غافل ہیں وجہ وہی ہے کہ یہ اپنی قوت عملی اور قوت علمی یا فکری سے صحیح طور پر مستفید نہیں ہوتے ، اس کے برخلاف مذکورہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق فرمایا کہ وہ ان قوی کو بالکل صحیح صحیح طریقے سے استعمال کرتے تھے گویا وہ صحیح معنوں میں ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے وہ کمال درجے کی قوت عملی اور قوت نظری کے مالک تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس صلاحیت کی تعریف فرمائی ہے ۔ (عصمت انبیاء کرام علیہ السلام) اگلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق دو دلائل بیان فرمائے ہیں ، عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ ان سے گناہ نہیں سرزد ہونے دیا جاتا ، فرشتے تو سارے ہی معصوم ہیں ، البتہ انسانوں میں سے یہ شرف صرف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو حاصل ہے معتزلہ قسم کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبیوں سے بڑے گناہ تو سرزد نہیں ہوتے البتہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہوجاتے ہیں مگر اس ضمن میں تمام مفسرین ، محدثین ، محققین اور اہل حق کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی تمام صغائر ، کبائر سے پاک ہوتے ہیں ، دراصل گناہ وہ ہوتا ہے جو قصد اور ارادے کے ساتھ کیا جائے مگر نبی کے متعلق ایسی بات سوچی بھی نہیں جاسکتی ، البتہ معمولی درجے کی لغزش ہوسکتی ہے جو خطائے اجتہادی کے درجے میں آتی ہے لیکن نبیوں کو اس پر بھی سخت گرفت ہوجاتی ہے بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ایسی لغزشوں پر انہوں نے لیے ظلم اور گناہ کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں اور پھر اپنے لیے استغفار بھی کرتے ہیں وہ حقیقی گناہ نہیں ہوتے بلکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام معمولی کوتاہیوں کو بھی بہت بڑا سمجھتے ہوئے ان لغزشوں کی معافی طلب کرتے نظر آتے ہیں یہ چیز ان کے مقام رفیع کی دلیل ہے ۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر ’ بیان القرآن “ میں رقم طراز ہیں کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے نہ تو حقیقی گناہ سرزد ہوتا ہے اور نہ ان کو حقیقی سزا ملتی ہے بظاہر تو یہ گناہ نظر آتا ہے مگر یہ بلا ارادہ وقصد معمولی لغزش ہوتی ہے جہاں تک سزا کا تعلق ہے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی یہ ابتلائیں بھی جسمانی حد تک محدود ہوتی ہیں جب کہ حقیقی سزا تو وہ ہے جو مجرموں کو آخرت میں ملے گی ۔ (عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر پہلی دلیل) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے متعلق پہلی دلیل یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ “ ہم نے ان کو ممتاز کیا ہے ایک خاص خصلت کے ساتھ اور وہ خصلت ہے (آیت) ” ذکری الدار “۔ آخرت کے گھر کی یاد ، یہ نبیوں کی خصوصیت ہے کہ ان کے پیش نظر ہمیشہ آخرت کا گھر ہوتا ہے اور وہ اس کو کسی طرح بھی فراموش نہیں کرتے ، عام آدمی کی پوری زندگی تو بسا اوقات آخرت کی یاد سے خالی گزر جاتی ہے اور وہ اسے زندگی بھر فراموش کیے رہتے ہیں مگر اللہ کے نبیوں کا دل ایک لمحہ بھر کے لیے بھی آخرت کے گھر کی یاد سے خالی نہیں ہوتا اور انہیں ہمیشہ اسی گھر کی فکر رہتی ہے یہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہر گناہ سے محفوظ اور معصوم ہوتے ہیں ۔ سورة الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے کئی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کرکے فرمایا ہے (آیت) ” یدعوننا رغبا ورھبا ، وکانوا لنا خشعین “۔ (آیت : 90) یہ لوگ ہمیں امید اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کا اظہار کیا کرتے تھے خود حضور خاتم النبیین ﷺ کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے (1) (ابوداؤد ص 4 ، ج 1) ” کان رسول اللہ یذکر اللہ فی کل احیانہ “۔ کہ حضور ﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی یاد کیا کرتے تھے اور اس سے کسی وقت بھی غافل نہیں ہوتے تھے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو بندے اس کی طرف اس قدر رغبت رکھے والے ہوں اور اس سے اس قدر ڈرنے والے ہوں ان سے گناہ کیسے سرزد ہو سکتا ہے ان کی آخرت کے گھر کے یاد ہی ان کی عصمت کی دلیل ہے ۔ (دوسری دلیل) اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کی عصمت کی دوسری دلیل یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” وانھم عندنا لمن المصطفین الاخیار “۔ اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور اچھے لوگوں میں سے ہیں ، یہ منتخب کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جس ذات میں مطلوبہ استعداد اور صلاحیت پاتا ہے اس کو نبوت و رسالت کے لیے خود منتخب فرماتا ہے گویا نبوت کوئی کسبی چیز نہیں ہے کہ کوئی شخص ڈگریاں پاس کرکے ، کوئی کورس پاس کر کے یا عبادت و ریاضت کرکے منصب نبوت پر فائز ہوجائے ، بلکہ یہ تو خالصتا اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی ہستی کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب نہیں کرے گا جس سے قصد و ارادہ کے ساتھ گناہ کا احتمال ہو سکتا ہو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” انی اصطفیتک علی الناس برسلتی وبکلامی “۔ (الاعراف ، 144) میں نے تم کو منصب رسالت کے ساتھ منتخب فرمایا اور پھر تمہیں شرف تکلم بھی بخشا ہے پس جو میں نے عطا کیا ہے اس کو پکڑ لو اور میرا شکر بجا لاؤ ، اس سے بھی معلوم ہوا کہ رسالت ونبوت اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے اور یہ ایسی بہترین شخصیت کا ہوتا ہے جس سے گناہ سرزد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، یہ عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دوسری دلیل ہوگئی ۔ (مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کی تشریح) بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے سلسلہ کے لوگوں میں ایک ممتاز شخصیت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کمال درجے کا علم وعقل و شعور عطا فرمایا تھا مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) مفکر اور حکیمانہ فکر کے مالک ہو کر باریک حقیقتیں صرف اہل ایمان کو سمجھا سکتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے مولانا نانوتوی (رح) کو وہ صلاحیت بخشی تھی کہ اپنے تو اپنے وہ ہندو اور عیسائی جیسے اغیار کو بھی اسلام کے غامض حقائق سمجھا سکتے تھے ، شاہجہان پور کے تاریخی جلسہ میں جہاں ہندؤوں اور عیسائیوں نے اپنے اپنے مذہب کی صداقت بیان کی وہاں مولانا نے اسلام کی حقانیت پر مدلل تقریر کی جسے تمام لوگوں نے اعلی ترین تقریر تسلیم کیا ۔ حضرت مولانا نانوتوی (رح) (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ (النسائ : 59) والی آیت سے عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو ثابت کیا ہے ، فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو ہر حالت میں بغیر کسی قید اور شرط کے ہر مسلمان پر مطلقا فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خالق ، مالک اور معبود برحق ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت بحیثیت مالک فرض ہے ، اسی طرح اس آیت کی رو سے رسول کی اطاعت بحیثیت رسالت فرض ہے ، اگر نبی سے گناہ کا امکان ہوتا تو اس کی اطاعت اس طرح مطلقا فرض نہ ہوتی ، اللہ تعالیٰ کا نبی غلطی سے مبرا ہوتا ہے لہذا اسکی اطاعت ہر حالت میں لازم ہے گویا یہ بھی عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دلیل ہے ۔ حضور ﷺ بعض اوقات خوشگوار مزاح بھی فرماتے تھے ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے عرض کیا ، حضور ﷺ آپ اللہ تعالیٰ کے نبی ہو کر مزاح کرتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! مگر میری زبان سے اس وقت بھی حق ہی نکلتا ہے ، عام قاضی اور جج کے متعلق تو حضور ﷺ کا فرمان ہے ” لا تحکم بین الناس وانت غضبان “ کے غصے کی حالت میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے مگر اپنے متعلق فرمایا کہ میرا فیصلہ ہر حالت میں ناطق ہوتا ہے آپ نے حضرت زبیر ؓ اور ایک انصاری ؓ کے تنازعہ میں غصے کی حالت میں فیصلہ کیا تھا مگر اس میں بھی غلطی کا کوئی امکان نہیں تھا گویا یہ بھی عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دلیل ہے ۔ (مولانا مودودی (رح) کی غلطی) اس مسئلہ میں مولانا مودودی (رح) صاحب نے غلطی کی ہے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے اپنی حفاظت کو اٹھا کر ان سے ایک دو غلطیاں بھی سرزد کردیتا ہے تاکہ لوگوں کو علم ہوجائے کہ آپ معبود نہیں بلکہ انسان اور بشر ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بشریت رسالت کے بہت سے لوازمات خود قرآن میں بیان کردیے ہیں مثلا یہ کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نکاح کرتے ان کی بیویاں ہوتی ہیں اور پھر اولاد بھی ہوتی ہے وہ کھانا کھاتے ہیں اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں ، وہ بیماری بھی ہوتے اور شہید بھی ہوتے ہیں ان سب چیزوں سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نبی انسان ہوتا ہے ان حقائق کی موجودگی میں نبی کو بشریت ثابت کرنے کے لیے اس سے غلطیاں سرزد کرانا قرین قیاس معلوم نہیں ہوتا ، دوسری بات یہ ہے کہ اگر نبی سے عصمت کو اٹھا لیا جائے خواہ تھوڑی دیر کے لیے ہی تو پھر تو نبی پر سے اعتماد ہی اٹھ جائے گا ، کہ نہ جانے فلاں بات اللہ تعالیٰ کے نبی نے کس حالت میں فرمائی ہے اور کیا یہ حقیقت ہے کیا غلطی ، لہذا نبی کے لیے عصمت کا ہونا ضروری ہے ۔
Top