Ruh-ul-Quran - Yaseen : 16
قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا رَبُّنَا : ہمارا پروردگار يَعْلَمُ : جانتا ہے اِنَّآ : بیشک ہم اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف لَمُرْسَلُوْنَ : البتہ بھیجے گئے
رسولوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کے بھیجے گئے ہیں
قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّـآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ ۔ وَمَا عَلَیَنْـآ اِلاَّالْبَلٰـغُ الْمُبِیْنُ ۔ (یٰسٓ: 16، 17) (رسولوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کے بھیجے گئے ہیں۔ اور ہماری ذمہ داری بس واضح طور پر پہنچا دینے کی ہے۔ ) اعتراض کا جواب اور تنبیہ رَبُّنَا یَعْلَمُکا ایک مفہوم یہ ہے کہ اسے قسم قرار دیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ رسولوں نے قسم کھا کر یہ بات فرمائی کہ دوسروں کو اعتبار دلانے کے لیے چونکہ آخری ذریعہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھائی جائے۔ تو ہم بھی قسم کھا کر یہ بات کہتے ہیں کہ ہم تمہاری ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ اتنی بڑی بات کے بعد تو تمہیں ہماری بات کا اعتبار کرنا چاہیے اور ہم پر ایمان لانا چاہیے۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تم ہمارے بارے میں جو چاہو خیال کرو اور بیشک ہماری طرف جھوٹ کی نسبت کرو، ہم تمہیں روک تو نہیں سکتے۔ لیکن یہ بات یاد رکھو کہ اصل حاضری تو اللہ تعالیٰ کے حضور ہوگی، وہاں ہر آدمی سے اس کے ایک ایک قول اور عمل کا حساب لیا جائے گا۔ ہم اس احساس کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول بن کر آئے ہیں۔ اور اس کی گواہی سے بڑھ کر کسی کی گواہی نہیں ہوسکتی اور اس کے علم سے ہٹ کر کسی اور چیز کی کوئی قدروقیمت نہیں۔ رہی یہ بات کہ تم اگر ہماری رسالت کو تسلیم نہیں کرو گے تو ہمارا شاید کوئی نقصان ہوجائے گا اور ہم شاید دنیوی برتری کے لیے کسی جتھا بندی میں مبتلا ہیں اور تمہارے انکار سے ہماری گروہ بندی کو نقصان پہنچے گا۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ ہمارا کام کسی کے دل میں ایمان اتار دینا نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو فرض عائد کیا ہے اس کو ادا کرتے ہوئے لوگوں تک اپنی دعوت پہنچانا ہے، سو ہم نے وہ ذمہ داری ادا کردی ہے۔ قیامت کے دن ہم سے تمہارے ایمان کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ البتہ تمہیں اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ تم نے ہماری رسالت کی تکذیب کیوں کی، اور تمہیں اس کی پاداش میں عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Top