تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 20
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ﴿20﴾
- قُلْفرما دیں
- سِيْرُوْاچلو پھرو تم
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- فَانْظُرُوْاپھر دیکھو
- كَيْفَ بَدَاَکیسے ابتدا کی
- الْخَلْقَپیدائش
- ثُمَّپھر
- اللّٰهُاللہ
- يُنْشِئُاٹھائے گا
- النَّشْاَةَاٹھان
- الْاٰخِرَةَآخری (دوسری)
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- عَلٰيپر
- كُلِّ شَيْءٍہر شے
- قَدِيْرٌقدرت رکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے کہو، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ کس طرح اللہ نے خلق کا آغاز کیا اور پھر اس کو دوبارہ اٹھا اٹھا کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل سیروا فی الارض فانظروا کیف بدا الخلق ثم اللہ ینشی النشاۃ الاخرۃ ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ (30)
یہ اس دنیا کے مظاہر پر صحیح نقطہ نگاہ سے غور کرنے کی دعوت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظام کو اس طرح چلا رہا ہے کہ یہ تمام حقائق کی تعلیم کے لئے خود اپنے وجود کے اندر ایک مکمل تربیت گاہ ہے۔ تو حید، قیامت اور جزا وسزا کے لئے باہر سے دلیل ڈھونڈھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس دنیا کے شب و روز کے مشاہدات میں ان میں سے ہر چیز کی شہادت موجود ہے۔ فرمایا کہ اس زمین میں چلو پھرو اور غور کی نگاہ سے دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح خلق کا آغاز فرماتا ہے اور پھر اس کو فنا کرکے اس کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرتا ہے۔ ایک قوم کو وہ وجود بخشتا ہے اور پھر اس کو مٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم کو لاتا ہے۔ رات کے بعد دن نمودار کرتا ہے، خزان کے بعد بہار آجاتی ہے۔ یہ سارے مشاہدات وہ اسی لئے کرا رہا ہے کہ یقین رکھے کہ جس خالق کی قدرت کے یہ کرشمے وہ ہر روز اور ہر آن مشاہدہ کر رہا ہے اس کے لئے کوئی کام بھی مشکل نہیں ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔