Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 19

  1. اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ﴿19﴾

    1. اَوَکیا
    2. لَمْ يَرَوْانہیں دیکھا انہوں نے
    3. كَيْفَکیسے
    4. يُبْدِئُابتداٗ کرتا ہے
    5. اللّٰهُاللہ
    6. الْخَلْقَپیدائش
    7. ثُمَّ يُعِيْدُهٗپھر دوبارہ پیدا کریگا اس کو
    8. اِنَّبیشک
    9. ذٰلِكَیہ
    10. عَلَي اللّٰهِاللہ پر
    11. يَسِيْرٌآسان
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ خلق کا آغاز کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کردیتا ہے۔ بیشک یہ اللہ کے لئے نہایت آسان ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کہ تم نے ہدایت کی راہ کیوں نہیں اختیار کی ! اولم یرواکیف یبدی اللہ الخلق ثم بعیدہ ط ان ذلک علی اللہ یسیرا (19) یہ اور اس کے بعد کی آیات، آیت 23 تک، حضرت ابراہیم ؑ کی دعوت کی بیچ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی طرح کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کی بات جب قیامت کے ذکر تک پہنچی تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے قیامت کے دلائل کا حوالہ دے کر حضرت ابراہیم کی بات کو مکمل اور کلام کو بالکل مطابقِ حال بنادیا۔ اولم یرواکیف یبدی اللہ الخلق ثم یعیدہ۔ یعنی اگر انہیں مرنے کے بعددوبارہ اٹھائے جانے میں کوئی شک ہے تو کیا انہوں نے اس کائنات میں اس حقیقت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ چیزوں کو پیدا کرتا ہے، پھر ان کو فنا کرتا ہے اور پھر دوبارہ ان کا اعادہ کردیتا ہے، یہ اسی دلیل کی طرف اشارہ ہے جو مختلف اسلوبوں سے، متعدد مقامات میں پیچھے گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب زمین کو بالکل خشک و بےآب وگیاہ کردینے کے بعد اس کو ازسر نو سرسبز و شادات کردینے میں خدا کی کوئی مشکل نہیں پیش آرہی تو لوگوں کے مرکھپ جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کردینے میں اس کو کیوں مشکل پیش آئے گی۔ ’ ان ذلک علی اللہ یسیرا۔“ یعنی اس کو مستبعد اور بعید ازا مکان نہ خیال کرو۔ جس خدا نے ہر چیز کو عدم سے وجود بخشا اور جو برابر اپنی اس قدرت کا اس کائنات میں مشاہدہ کرا رہا ہے اس کے لئے تمہیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا نہایت سہل ہے۔