Taiseer-ul-Quran - Saad : 66
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ
رَبُّ : پروردگار السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان الْعَزِيْزُ : غالب الْغَفَّارُ : بڑا بخشنے والا
وہ آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے، غالب ہے 66 ، معاف کرنے والا ہے
66 اس سے پہلی آیت میں اپنی صفت قہاری کا ذکر فرمایا۔ جبکہ مخاطب کافر تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دبا کر رکھنے والا ہے۔ کافر اس کی گرفت سے کسی وقت بھی بچ نہیں سکتے۔ اور اس آیت میں اپنی صفت غفاری کا ذکر فرمایا یعنی جو بندے ایمان لے آئیں اور اس کے بندے بن کر رہیں ان کے گناہوں کو معاف کردینے والا ہے۔
Top