Ruh-ul-Quran - Saad : 66
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ
رَبُّ : پروردگار السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان الْعَزِيْزُ : غالب الْغَفَّارُ : بڑا بخشنے والا
وہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، غالب اور بخشنے والا
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَاالْعَزِیْزُالْغَفَّارُ ۔ (صٓ: 66) (وہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، غالب اور بخشنے والا۔ ) اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر مزید دلیل قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ وہی آسمانوں، زمینوں اور ان دونوں کے درمیان کی تمام مخلوقات کا خالق اور مالک اور روزی رساں ہے۔ ہر مخلوق کی ضرورتیں اس کے سامنے کھلی رہتی ہیں۔ وہ کسی مخلوق کی نہ کسی ضرورت سے بیخبر ہوتا ہے اور نہ اس کے احساسات سے۔ جو اسے پکارتا ہے اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہے۔ ایسی ذات جو پوری کائنات کی مالک ہو اور اس کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کو روزی پہنچانے والی ہو اور کسی مخلوق کی کوئی ضرورت اور کوئی احساس اس کے علم سے باہر نہ ہو، اس کے سوا کوئی اور اِلٰہ کیونکر ہوسکتا ہے۔ وہ دنیا میں اس لیے گرفت نہیں فرماتا کیونکہ وہ غفار ہے۔ لیکن اتمامِ حجت کے بعد بعض دفعہ گرفت بھی فرماتا ہے۔ لیکن قیامت کا دن چونکہ یوم جزاء اور انصاف کا دن ہے اس لیے وہاں سب سے جواب طلبی کرے گا اور اس وقت یہ بات کھل جائے گی کہ وہ سب پر غالب اور زبردست ہے کوئی اس کے حکم اور گرفت سے باہر نہیں۔ دوسرا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ عزیز ہے یعنی کسی حال میں کوئی شخص بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں۔ وہ ہر چیز پر غالب اور مقتدر ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ غفار بھی ہے۔ اس لیے جو اس کی رحمت و مغفرت کے حقدار ہوں گے ان کو بہت بخشنے والا ہے۔ کوئی ذات ایسی نہیں جو اس کے جودوکرم پر پہرہ بٹھا سکے اور کسی کو اس کی بخشش سے محروم کرسکے۔ ان دونوں صفات کو جب ملا کر دیکھیں تو اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح کوئی نافرمانی اور سرتابی کرنے والا اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا اسی طرح اس کے فرماں بردار بندوں کو کسی ظلم یا ناانصافی کا کوئی اندیشہ نہیں۔ آدمی کا ایمان و عمل اللہ تعالیٰ کے فضل کے لیے سب سے بڑی سفارش ہے جو سفارشی لوگوں نے فرض کر رکھے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔
Top