Tafseer-e-Madani - Saad : 66
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ
رَبُّ : پروردگار السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان الْعَزِيْزُ : غالب الْغَفَّارُ : بڑا بخشنے والا
جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان تمام چیزوں کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہیں نہایت زبردست انتہائی (درگزر اور) معاف کرنے والا
77 کائنات ساری حضرت خالق کی وحدانیت ویکتائی کی شاہد عدل : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کائنات ساری اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی کا کھلا ثبوت اور اس کی صریح دلیل ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان تمام چیزوں کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہیں۔ نہایت زبردست انتہائی درگزر کرنے والا "۔ سو وہ وحدہ لاشریک زبردست ایسا ہے کہ کوئی بھی اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نکلنے کی ہمت اور سکت نہیں رکھتا۔ مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ درگزر کرنے والا اور غفار ایسا ہے کہ ایک ہی مرتبہ کی سچی توبہ کرنے پر عمر بھر کے سب گناہوں کو یکسر معاف فرما دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَاْیَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ اَنْ تَغْفِرَلَنَا ذُنُوْبَنَا کُلَّہَا دِقَّہَا وَجِلَّہَا اَوَّلِہَا وَآخِرَہَا سِرَّہَا وَعَلانِیَتَہا مَا اَعْلَمُ مِنْہَا وَمَا لَا اَعْلَم ۔ سو عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایسے فرضی سہاروں سے ہاتھ جھاڑ کر اس وحدہ لاشریک کے حضور جھک جائے اور ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی فکر و کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی کا کھلا ثبوت بھی پیش فرما دیا گیا اور واضح دلیل بھی۔ کیونکہ جب آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف وہی وحدہ لا شریک ہے تو معبود حق بھی وہی اور صرف وہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور پھر عزیز و غفار کی دو صفتوں کا یکجا طور پر پایا جانا بھی اسی وحدہ لا شریک کی صفت وشان ہے۔ تو پھر معبود برحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Top