Tafseer-e-Usmani - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
کیا ہم دیں گے ایمان والوں کو جو کرتے ہیں نیکیاں برابر ان کے جو خرابی ڈالیں ملک میں کیا ہم کردیں گے ڈرنے والوں کو برابر ڈھیٹ لوگوں کے2
2  یعنی ہمارے عدل و حکمت کا اقتضاء یہ نہیں کہ نیک ایماندار بندوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں یا ڈرنے والوں کے ساتھ بھی وہ ہی معاملہ کرنے لگیں جو ڈھیٹ اور نڈر لوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اسی لیے ضرور ہوا کہ کوئی وقت حساب و کتاب اور جزاء سزا کا رکھا جائے۔ لیکن دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نیک اور ایماندار آدمی قسم قسم کی مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش بےحیا مزے چین اڑاتے ہیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی کی جو خبر مخبر صادق نے دی ہے عین مقتضائے حکمت ہے۔ وہاں ہی ہر نیک و بد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ ملے گا۔ پھر " یوم الحساب " کی خبر کا انکار کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔
Top