Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور انھیں ایک امت بنا دیتا اور لیکن وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو ظالم ہیں ان کے لیے نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔
(1) ولو شآء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فریق جنتی اور ایک جہنمی کیوں بنایا، سبھی کو ایک جیسا کیوں نہیں بنادیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا تو جس طرح اس نے کائنات کی تمام چیزوں کو بےاختیار بنایا ہے وہ جن وانس کو بھی کسی قسم کا اختیار نہ دیتا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو وہ سب دین حق پر ہوتے، مگر اس نے انہیں اختیار اور ارادہ میں آزادی دے کر پیدا فرمایا، تاکہ ان کا امحتان ہو اور اس کی صفات رحمت، غضب اور عدل کا ظہور ہو۔ یہ اس کی مشینت ہے، جس میں بیشمار حکمتیں ہیں، جنہیں پوری طرح وہی جانتا ہے، انسان چاہے بھی تو ان کی تہ تک نہیں پہنچ سکتا، وہ اتنا ہی جان سکتا ہے جتنا پروردگار چاہے۔ (2) ولکن یدخل من یشآء فی رحمتہ : نیکی و بدی کی تمیز اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی آزادی دینے کے بعد وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، مگر اس کی یہ مشینت اندھی نہیں کہ اس کا کوئی قاعدہ نہ ہو، بلکہ اس سے اگلے جملے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کے حق دار بنتے ہیں اور وہ کون ہیں جو اس سے محروم رہتے ہیں۔ (3) والظلمون مالھم من ولی ولا نصیر : قرآن مجید کی اصطلاح میں ”ظلم“ اور ”ظالمین“ کا لفظ شرک اور مشرکین کے لئے استعمال ہوتا ہے (دیکھیے انعام : 82) اور ”قسط“ اور ”عدل“ کا لفظ توحید کیلئے آیا ہے، کیونکہ سب سے بڑا ظلم شرک ہے اور سب سے بڑا عدل توحید ہے، جیسا کہ فرمایا :(شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو و المئکۃ و اولو العلم قآئما بالقسط) (آل عمران :18)”اللہ نے گواہی دی کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔“ ارادہ و عمل کا اختیار ملنے کے بعد جن لوگوں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اپنے خالق ومالک اور رازق کو اکیلا معبود بنانے اور اسی کی عبادت پر قائم رہنے کے بجائے غیروں ک و معبود بنایا، جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں، تو ان کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ معلوم ہوا ایسے لوگ اللہ کی رحمت میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ انہیں اپنی رحمت میں داخل کرنا اللہ تعالیٰ کے عدل اور مشیت کے خلاف ہے اور وہ خود بھی اللہ کی رحمت سے ناامید ہیں، ورنہ کبھی غیروں کی طرف نہ جاتے، جیسا کہ فرمایا :(اولئک یسوا من رحمتی) (العنکبو : 23)”وہ میری رحمت سے ناامید ہوچکے ہیں۔“ یہی بات نہایت وضاحت کے ساتھ سورة دہر (29، 30) میں بیان فرمائی گئی ہے۔ ہاں جو لوگ ایمان لائیا ور اس میں ظلم عظیم یعنی شرک کی آمیزش نہیں کی وہی اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوں گے اور وہی اس کی امید رکھ سکتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(اولئک یرجون رحمت اللہ) (البقرۃ :218)”وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔“ (4) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی بھی دی گی ہے کہ اگر کچھ لوگ حق واضح ہونے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے اور کفر و شرک پر اڑے رہتے ہیں تو آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا، مگر یہ جبر ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی مشیت نہیں۔ اس نے اپنی حکمت اور مشیت کے تحت انسان کو اختیار دے رکھا یہ، جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر کرے، اس لئے لوگوں میں یہ اختلاف ہمیشہ رہے گا۔ یہ مضمون متعدد آیات میں بیان ہوا ہے، دیکھیے سورة یونس (99، 100) ، ہود (118، 119) اور سورة سجدہ (13)۔
Top