Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور7 اگر چاہتا اللہ تو سب لوگوں کو کرتا ایک ہی فرقہ لیکن وہ داخل کرتا ہے جس کو چاہے اپنی رحمت میں اور گناہگار جو ہیں ان کا کوئی نہیں رفیق اور نہ مددگار
7:۔ ” ول شاء اللہ۔ الایۃ “۔ اللہ تعالیٰ قادر و متصرف ہے، اگر وہ چاہتا تو تمام بنی آدم کو جبراً توحید پر قائم کردیتا اور اس طرح ساری انسانیت ایک ہی امت ہوتی، لیکن جبری ایمان مطلوب نہیں، اس طرح جزاء و سزا کی حکمت فوت ہوجاتی ہے اور امتحان وابتلاء کا سلسلسہ ختم ہوجاتا ہے جس کی خاطر انسان کو پیدا فرمایا۔ ” الذی خلق الموت والحیوۃ لیبوکم ایکم احسن عملا (ملک رکوع 1) ۔ اور سورة مائدہ (رکوع 7) میں ارچشاد ہے۔ ” ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ ولکن لیبلوکم فی ما اتاکم۔ الایۃ “ ” ولکن یدخل الخ “ یہ اسی امتحان وابتلاء کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی انسان کو اختیار دیدیا اور دونوں راستے اس پر واضح کردئیے گئے۔ اب وہ دونوں راستوں میں جو بھی اختیار کرے گا، اسی کے مطابق اس کا انجام ہوگا۔ اگر صراط مستقیم کو اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت میں داخل کرے گا، کیونکہ ایسے لوگوں ہی کو وہ اپنی رحمت میں داخل کرنا چاہتا ہے۔ اور جو کفر و شرک اختیار کرے گا ایسے ظالم اور بےانصاف اس کے غضب کے مستحق ہوں گے اور ان کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا جو ان کو اللہ کے غضب سے بچا سکے۔
Top