Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار
(42:8) ولوشاء اللّٰہ لجعلہم امۃ واحدۃ۔ پہلا جملہ شرط اور دوسرا جواب شرط ہے۔ لو حرف شرط ہے دو جملوں پر آتا ہے۔ اور دونوں جملے ماضیہ ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوگیا ہوتا ۔ لام جواب شرط کے لئے ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا ۔ (لو پر مزید تفصیل کے لئے ملاحظ ہو 3:159) ۔ امۃ واحدۃ موصوف صفت ہوکر مفعول ہے جعل کا۔ امۃ واحدۃ یعنی سب کو دین اسلام پر کردینا۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ولو شاء اللّٰہ لجمعھم علی الھدی اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ والظلمون مالہم من ولی ولا نصیر : الظلمون مبتدا۔ باقی جملہ اس کی خبر ہے۔ الظلمون ظلم کرنے والے۔ ظلم سے اسم فاعل جمع مذکر۔ ظلم کے معنی ہیں وضع الشیء فی غیر محلہ۔ کسی جگہ کو اپنی اصلی جگہ سے دوسری جگہ رکھنا۔ (عبادت صرف اللہ کا حق ہے غیر اللہ کی عبادت ظلم ہے۔ ولی : مددگار۔ محافظ، نگہبان، بچانے والا۔ صفت مشبہ کا صیغہ بروزن فعیل۔ ولایۃ مصدر۔ نصیر : صیغہ صفت مجرور۔ نصر مصدر سے بچانے والا۔ محافظ۔
Top