Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے اور نہ مددگار
ولو شاء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ اور اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً کی تفسیر میں حضرت ابن عباس نے فرمایا : سب کو ایک دین پر کردیتا۔ مقاتل نے کہا : سب کو دین اسلام پر کردیتا۔ اللہ نے دوسری روایت میں فرمایا ہے : ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی (اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ اس سے مقاتل کے قول کی تائید ہوتی ہے) ۔ ولکن یدخل من یشاء فی رحمتہ لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ یعنی دین اسلام کی ہدایت کردیتا ہے۔ والظلمون ما لھم من ولی ولا نصیر اور ان ظالموں کا (قیامت کے دن) نہ کوئی حامی ہوگا ‘ نہ مددگار۔ الظَّلِمُوْنَ یعنی کافر۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل نہیں کرے گا ‘ اسلئے ان کا کوئی حامی نہ ہوگا کہ عذاب کو دفع کرسکے ‘ نہ مددگار ہوگا کہ دوزخ سے بچا سکے۔ وعید میں زور پیدا کرنے کیلئے طرز کلام کو بدلا گیا۔ مقاتل کا تقاضا تھا کہ یوں کہا جاتا کہ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل نہیں کرے گا ‘ لیکن مبالغہ کے طور پر فرمایا : ان کا کوئی حامی ہوگا ‘ نہ مددگار۔
Top