Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو وہ ان سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا لیکن جس کے لئے اس کی مشیت ہوتی ہے اسی کو وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ان ظالموں کا کوئی نہ حمایتی نکلے گا نہ مددگار،9۔
9۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر مشیت تکوینی یوں ہی ہوتی تو سب ایک ہی دینی طریق پر خلق کئے جاتے لیکن بیشمار حکمتوں اور مصلتحوں سے یہ منظور نہ ہوا۔ اب سب کے سب اضطرار ہدایت یاب نہ ہوں گے، بلکہ صرف وہی مخصوص گروہ ہدایت یاب ہوگا، جس پر مخصوص رحمت الہی بھی ہوگی اور منکرین وکافرین قیامت کے دن بالکل بےسہارے کے ہوں گے۔ (آیت) ” والظلمون “۔ ظالمون سے یہاں بھی مراد اہل کفر وشرک ہیں۔ اے الکافرون (معالم)
Top