Tafseer-e-Usmani - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور اگر چاہتا اللہ تو سب لوگوں کو کرتا ایک ہی فرقہ لیکن وہ داخل کرتا ہے جس کو چاہے اپنی رحمت میں اور گناہگار جو ہیں ان کا کوئی نہیں رفیق اور نہ مددگار3
3  یعنی بیشک اس کو قدرت تھی اگر چاہتا تو سب کو ایک طرح کا بنا دیتا اور ایک ہی راستہ پر ڈال دیتا۔ لیکن اس کی حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کہ اپنی رحمت و غضب دونوں قسم کی صفات کا اظہار فرمائے۔ اس لیے بندوں کے احوال میں اختلاف و تفاوت رکھا کسی کو اس کی فرمانبرداری کی وجہ سے اپنی رحمت کا مورد بنایا اور کسی کو اس کے ظلم و عصیان کی بناء پر رحمت سے دور پھینک دیا۔ جو لوگ رحمت سے دور ہو کر غضب کے مستحق ہوئے اور حکمت الٰہیہ ان پر سزا جاری کرنے کو مقتضی ہوئی ان کا ٹھکانا کہیں نہیں۔ نہ کوئی رفیق اور مددگار ان کو مل سکتا ہے جو اللہ کی سزا سے بچا دے۔
Top