Al-Quran-al-Kareem - Al-Mulk : 8
تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ
تَكَادُ : قریب ہے کہ تَمَيَّزُ : پھٹ جائے مِنَ الْغَيْظِ : غضب سے۔ غصے سے كُلَّمَآ : جب کبھی اُلْقِيَ فِيْهَا : ڈالی جائے گی اس میں فَوْجٌ : کوئی فوج۔ لوگوں کا گروہ سَاَلَهُمْ : پوچھیں گے ان سے خَزَنَتُهَآ : ان کے داروغہ۔ چوکیدار اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں آیا تھا تمہارے پاس نَذِيْرٌ : کوئی ڈرانے والا
قریب ہوگی کہ غصے سے پھٹ جائے۔ جب بھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا، اس کے نگران ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ؟
تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ۔۔۔۔:”تمیز“ اصل میں ”تمیز“ (تفعل) ہے ، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی گئی۔”قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے“ اس سے آگ کا صاحب شعور ہونا اور کفار پر سخت غصے ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ جہنم کے اس وقت کے سخت غصے اور جوش و خروش کا نقشہ اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کھینچا جاسکتا۔ جہنم میں جب بھی کسی نئے گروہ کے لوگ پھینکنے جائیں گے تو جہنم کے نگران فرشتے ان سے پوچھیں گے ، کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟ یہ سوال ہر گروہ سے ہوگا اور اس لیے نہیں ہوگا کہ فرشتوں کو معلوم نہیں کہ ان کے پاس ڈرانے والے آئے تھے یا نہیں ، بلکہ ایک تو تعجب کے اظہار کے لیے ہوگا کہ اللہ کی طرف سے پیغمبروں اور دین کی دعوت دینے والوں کے ڈرانے کے باوجود تم ایمان نہ لائے اور جان بوجھ کر جہنم کا ایندھن بنے ، دوسرا ان پر حجت تمام کرنے کے لیے اور خود ان کے منہ سے نکلوانے کے لیے کہ انہیں نہ تو بیخبر ی میں جہنم میں پھینکا جا رہا ہے اور نہ بلا جرم ، بلکہ وہ فی الواقع اس کے حق دار ہیں ، چناچہ وہ خود کہیں گے ، کیوں نہیں ، ہمارے پاس ڈرانے والے آئے اور انہوں نے اللہ کی اتاری ہوئی پوری تعلیم بھی ہم تک پہنچائی ، مگر ہم نے انہیں جھٹلا دیا اور اس بات سے سرے سے انکار کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل کی ہے ، بلکہ الٹا انہی کو بڑی گمراہی میں مبتلا قرار دیا۔
Top