Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 8
تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ
تَكَادُ : قریب ہے کہ تَمَيَّزُ : پھٹ جائے مِنَ الْغَيْظِ : غضب سے۔ غصے سے كُلَّمَآ : جب کبھی اُلْقِيَ فِيْهَا : ڈالی جائے گی اس میں فَوْجٌ : کوئی فوج۔ لوگوں کا گروہ سَاَلَهُمْ : پوچھیں گے ان سے خَزَنَتُهَآ : ان کے داروغہ۔ چوکیدار اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں آیا تھا تمہارے پاس نَذِيْرٌ : کوئی ڈرانے والا
کہ گویا ابھی غصہ سے پھٹنے کو ہے، جب جب اس کے اندر کوئی گروہ (کافروں کا) ڈالا جائے گا تو اس کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا،6۔
6۔ (جس نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا ہو ؟ ) (آیت) ” کلما ..... نذیر “۔ دوزخ میں کافروں کے مختلف گروہ اپنے اپنے مرتبہ کفر کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے۔ یہ سوال ہر نئے گروہ سے ہوگا۔ فرشتوں کے سوال کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شدید عذاب تو ایسی چیز تھی کہ تمہیں اس کی خبر اگر بدرجہ احتمال پہنچتی، جب بھی تمہیں اس سے اپنے کو بچانا واجب تھا تو کیا ایسے ہولناک انجام کی تمہیں سرے سے خبر ہی نہیں پہنچی تھی ؟ (آیت) ” تکاد تمیز من الغیظ “۔ یہ فقرہ جہنم کے جوش و خروش کی بےانتہاشدت ظاہر کرنے کو ہے۔
Top