Tafseer-e-Baghwi - Aal-i-Imraan : 116
مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا
مَنْ : جو يَّشْفَعْ : سفارش کرے شَفَاعَةً : شفارش حَسَنَةً : نیک بات يَّكُنْ لَّهٗ : ہوگا۔ اس کے لیے نَصِيْبٌ : حصہ مِّنْھَا : اس میں سے وَمَنْ : اور جو يَّشْفَعْ : سفارش کرے شَفَاعَةً : سفارش سَيِّئَةً : بری بات يَّكُنْ لَّهٗ : ہوگا۔ اس کے لیے كِفْلٌ : بوجھ (حصہ) مِّنْھَا : اس سے وَكَانَ : اور ہے اللّٰهُ : اللہ عَلٰي : پر كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز مُّقِيْتًا : قدرت رکھنے والا
جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے عذاب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے
116۔ (آیت)” ان الذین کفروا لن تغنی عنھم ۔۔۔۔۔ من اللہ شیئا “۔ ان کا مال فدیہ میں ان کو نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی اولاد ان کی مدد ونصرت کے لیے دی جائے گی کہ ان کے ذریعے سے اللہ کے عذاب سے بچاؤ کا سامان کرو ، ان دونوں کو خصوصی طور پر اس لیے ذکر کیا کیونکہ انسان اپنے آپ سے مصیبت کبھی مال دے کر دور کرتا ہے اور کبھی اولاد کی مدد سے اس کو دور کرتا ہے ، (آیت)” واولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون “۔ آگ کے ساتھی اس وجہ سے کہا یہ اسی کے اہل ہیں ، نہ یہ آگ سے نکل سکیں گے اور نہ ہی وہ اس سے جدا ہوں گے جیسے کہا جاتا ہے ، ” کصاحب الرجل یفارقہ “۔ فلاں کا ساتھی اس سے جدا ہوگیا۔
Top