Anwar-ul-Bayan - At-Tawba : 63
اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ
اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا : کیا وہ نہیں جانتے اَنَّهٗ : کہ وہ جو مَنْ : جو يُّحَادِدِ : مقابلہ کرے گا اللّٰهَ : اللہ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کا رسول فَاَنَّ : تو بیشک لَهٗ : اس کے لیے نَارَ جَهَنَّمَ : دوزخ کی آگ خَالِدًا : ہمیشہ رہیں گے فِيْهَا : اس میں ذٰلِكَ : یہ الْخِزْيُ : رسوائی الْعَظِيْمُ : بڑی
کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول ﷺ سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لئے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا ؟ یہ بڑی رسوائی ہے۔
(9:63) یحادد۔ مضارع واحد مذکر غائب اصل میں یحادد تھا۔ بوجہ عمل من مجزوم ہوا۔ اور وصل کی وجہ سے مکسور کردیا گیا۔ محاددۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ مخالفت کرتا ہے حد۔ ہر چیز کی انتہاء حد فاصل ۔ تیزی ۔ بہادری ۔ کبھی حد بمعنی گناہ۔ اور سزائے گناہ کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے حدیث میں آیا ہے انی اصبت حداً فاقمہ علی میں نے ایک حد کو پالیا ہے تو اب وہ حد مجھ پر قائم کیجئے۔ یعنی مجھ سے گناہ ہوگیا ہے اس کی سزا دیدیجئے۔
Top