Tafseer Ibn-e-Kaseer - An-Nisaa : 56
وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
وَمِنْهُمُ : اور ان میں سے الَّذِيْنَ : جو لوگ يُؤْذُوْنَ : ایذا دیتے (ستاتے) ہیں النَّبِيَّ : نبی وَيَقُوْلُوْنَ : اور کہتے ہیں هُوَ : وہ (یہ) اُذُنٌ : کان قُلْ : آپ کہ دیں اُذُنُ : کان خَيْرٍ : بھلائی لَّكُمْ : تمہارے لیے يُؤْمِنُ : وہ ایمان لاتے ہیں بِاللّٰهِ : اللہ پر وَيُؤْمِنُ : اور یقین رکھتے ہیں لِلْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں پر وَرَحْمَةٌ : اور رحمت لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے جو اٰمَنُوْا : ایمان لائے مِنْكُمْ : تم میں وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ يُؤْذُوْنَ : ستاتے ہیں رَسُوْلَ اللّٰهِ : اللہ کا رسول لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک
اور مثال ان کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی خوشی حاصل کرنے کو اور اپنے دلوں کو ثابت کر کر ایسی ہے جو ایک باغ ہے بلند زمین پر اس پر پڑا زور کا مینہ تو لایا وہ باغ اپنا پھل دو چند اور اگر نہ پڑا اس پر مینھ تو پھوار ہی کافی ہے، اور اللہ تمارے کاموں کو خوب دیکھتا ہے،
پانچویں آیت میں صدقہ مقبولہ اور انفاق مقبول کی ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جو لوگ اپنے مال خالص اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کی نیت سے خرچ کرتے ہیں کہ اپنے نفسوں میں پختگی پیدا کریں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی باغ ہو کسی ٹیلے پر اور اس پر زور کی بارش پڑی ہو پھر وہ اپنا پھل لایا ہو دو چند اور اگر ایسے زور کی بارش بھی نہ پڑے تو ہلکی پھوار بھی اس کے لئے کافی ہے، اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتے جانتے ہیں۔
اس میں اخلاص نیت اور رعایت شرائط مذکورہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی بڑی فضیلت اس مثال سے واضح کردی گئی کہ نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ تھوڑا بھی خرچ کیا جائے تو وہ کافی اور موجب ثمرات آخرت ہے۔
Top