Tafseer-e-Baghwi - Aal-i-Imraan : 116
فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا   ۧ
فَاِذَا : پھر جب قَضَيْتُمُ : تم ادا کرچکو الصَّلٰوةَ : نماز فَاذْكُرُوا : تو یاد کرو اللّٰهَ : اللہ قِيٰمًا : کھڑے وَّقُعُوْدًا : اور بیٹھے وَّعَلٰي : اور پر جُنُوْبِكُمْ : اپنی کروٹیں فَاِذَا : پھر جب اطْمَاْنَنْتُمْ : تم مطمئن ہوجاؤ فَاَقِيْمُوا : تو قائم کرو الصَّلٰوةَ : نماز اِنَّ : بیشک الصَّلٰوةَ : نماز كَانَتْ : ہے عَلَي : پر الْمُؤْمِنِيْنَ : مومن (جمع) كِتٰبًا : فرض مَّوْقُوْتًا : (مقررہ) اوقات میں
جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے عذاب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے
116۔ (آیت)” ان الذین کفروا لن تغنی عنھم ۔۔۔۔۔ من اللہ شیئا “۔ ان کا مال فدیہ میں ان کو نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی اولاد ان کی مدد ونصرت کے لیے دی جائے گی کہ ان کے ذریعے سے اللہ کے عذاب سے بچاؤ کا سامان کرو ، ان دونوں کو خصوصی طور پر اس لیے ذکر کیا کیونکہ انسان اپنے آپ سے مصیبت کبھی مال دے کر دور کرتا ہے اور کبھی اولاد کی مدد سے اس کو دور کرتا ہے ، (آیت)” واولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون “۔ آگ کے ساتھی اس وجہ سے کہا یہ اسی کے اہل ہیں ، نہ یہ آگ سے نکل سکیں گے اور نہ ہی وہ اس سے جدا ہوں گے جیسے کہا جاتا ہے ، ” کصاحب الرجل یفارقہ “۔ فلاں کا ساتھی اس سے جدا ہوگیا۔
Top