Bayan-ul-Quran - An-Nahl : 66
وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ
وَاِنَّ : اور بیشک لَكُمْ : تمہارے لیے فِي : میں الْاَنْعَامِ : چوپائے لَعِبْرَةً : البتہ عبرت نُسْقِيْكُمْ : ہم پلاتے ہیں تم کو مِّمَّا : اس سے جو فِيْ : میں بُطُوْنِهٖ : ان کے پیٹ (جمع) مِنْ : سے بَيْنِ : درمیان فَرْثٍ : گوبر وَّدَمٍ : اور خون لَّبَنًا : دودھ خَالِصًا : خالص سَآئِغًا : خوشگوار لِّلشّٰرِبِيْنَ : پینے والوں کے لیے
اور (نیز) تمہارے لیے مواشی میں بھی غور درکار ہے (دیکھو) ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون (کا مادہ) ہے اس کے درمیان میں سے صاف اور گلے میں آسانی سے اترے والا دودھ (بنا کر) ہم تم کو پینے کو دیتے ہیں۔ (ف 2)
2۔ آیت سے یہ مراد نہیں کہ پیٹ میں ایک طرف گوبر ہوتا ہے اور ایک طرف خون اور دونوں کے درمیان دودھ رہتا ہے بلکہ پیٹ میں جو غذا ہوتی ہے اس میں وہ اجزا جو آگے چل کردودھ بنیں گے اور وہ اجزاء جو گوبر بن جائیں گے سب مخلوط ہوتے ہیں اللہ ان کو جدا جدا کرتے ہیں کچھ گوبر بن کر وضع ہوجاتا ہے اور کچھ ہضم کبدی میں اخلاط بنتے ہیں جن میں خون بھی ہے پھر اس خون میں وہ حصہ جو آگے چل کر دودھ بنے گا اور وہ حصہ جو دودھ نہ بنے گا یہ دونوں مخلوط ہوتے ہیں اللہ ایک حصہ کو جدا کرکے پستان تک پہنچاتا ہے اور وہ وہاں پہنچ کر دودھ بن جاتا ہے۔
Top