Tafseer-e-Baghwi - An-Nahl : 68
وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ
وَاِنَّ : اور بیشک لَكُمْ : تمہارے لیے فِي : میں الْاَنْعَامِ : چوپائے لَعِبْرَةً : البتہ عبرت نُسْقِيْكُمْ : ہم پلاتے ہیں تم کو مِّمَّا : اس سے جو فِيْ : میں بُطُوْنِهٖ : ان کے پیٹ (جمع) مِنْ : سے بَيْنِ : درمیان فَرْثٍ : گوبر وَّدَمٍ : اور خون لَّبَنًا : دودھ خَالِصًا : خالص سَآئِغًا : خوشگوار لِّلشّٰرِبِيْنَ : پینے والوں کے لیے
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے پیں گھر بنا۔
تفسیر (68) ” واوحی ربک الی النحل “ اس سے مراد الہام کرنا، دل میں ڈالنا، نحل کہتے ہیں شہد کی مکھی کو۔ اس کی واحد نحلۃ آتی ہے۔ ” ان اتخذی من الجبال بیوتا ومن الشجر ومما یعرشون “ وہ اپنے لیے بناء تعمیر کرتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کے چھتے کو مکان کہنے سے اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ انسانی مکان کی طرح مکھیوں کے چھتوں میں بھی ضروری حصے ہوتے ہیں۔ ابن زید کا قول ہے کہ اس سے مراد کروم ہے۔
Top