Dure-Mansoor - Al-Maaida : 50
اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠   ۧ
اَفَحُكْمَ : کیا حکم الْجَاهِلِيَّةِ : جاہلیت يَبْغُوْنَ : وہ چاہتے ہیں وَمَنْ : اور کس اَحْسَنُ : بہترین مِنَ : سے اللّٰهِ : اللہ حُكْمًا : حکم لِّقَوْمٍ : لوگوں کے لیے يُّوْقِنُوْنَ : یقین رکھتے ہیں
کیا یہ جاہلیت کے حکم کو چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلہ کرنے والا ان لوگوں کے لئے کون ہے جو یقین کرتے ہیں۔
(1) امام عبد بن حمید نے، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون سے یہودی مراد ہیں۔ (2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون کے بارے میں فرمایا کہ یہ یہود کے مقتول کے بارے میں ہے۔ کیونکہ زمانہ جاہلیت میں طاقت والا کمزور کو اور غالب ذلیل کو کھا جاتا ہے۔ فرمایا لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون (کیا پھر یہ لوگ دور جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں) (3) امام بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سب سے ناپسندیدہ آدمی ہے وہ جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اپناتا ہے۔ اور کسی آدمی کو ناحق تلاش کرتا ہے تاکہ اس کا خون بہا دے۔ (4) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا حکم دو ہیں ایک حکم اللہ کا ہے اور دوسرا حکم جاہلیت کا ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون (5) امام ابن ابی حاتم نے عروہ ؓ سے روایت کیا کہ جاہلیت کو عالمیت کہا جاتا یہاں تک ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ زمانہ جاہلیت میں اس طرح تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے ذکر کو نازل فرمایا۔
Top