Tafseer-e-Haqqani - Ash-Shura : 17
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ
اَللّٰهُ الَّذِيْٓ : اللہ وہ ذات ہے اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ وَالْمِيْزَانَ : اور میزان کو وَمَا يُدْرِيْكَ : اور کیا چیز بتائے تجھ کو لَعَلَّ السَّاعَةَ : شاید کہ قیامت قَرِيْبٌ : قریب ہی ہو
اللہ ہی ہے کہ جس نے سچی کتاب اور ترازو نازل کی اور آپ کو کیا معلوم کہ شاید (قیامت کی) وہ گھڑی نزدیک ہی ہو
ترکیب : قال الکسائی قریب نعت ینعت بھا المذکرو المونث کمافی قولہ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین ویمکن ان یکون فاعل قریب ایتانھالا الضمیر الراجع الی الساعۃ۔ تفسیر : اس تمام گفتگو کے بعد مسئلہ نبوت کو تمام کر کے دارآخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے یا یوں کہو کہ پہلے جو فرمایا تھا کہ جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف مفوض ہے۔ اب اس کی ایک اور وجہ بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی طرف اس لیے کہ اس نے کتاب برحق اور عدل کی ترازو نازل کردی ہے اس میں ہر بات کو تول دیکھو۔ المیزان سے مراد کتاب آسمانی ہے اسی میں نیک و بد ‘ اچھا برا کام وزن ہوتا ہے اور اس کے اتارنے سے کیا غرض ہے وہ یہ کہ قیامت کے لیے ہر ایک اپنے اعمال اور ایمان کو تول رکھے وہاں وہ کام آوے گا۔ اس کے بعد فرما دیا ومایدریک لعل الساعۃ قریب کہ اے مخاطب تجھے کیا خبر ہے کہ وہ نزدیک ہے یعنی اس کو دور کیوں سمجھتے ہو ؟ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کی جلدی کرتے ہیں کہ جلد قیامت آجاوے یہ اس لیے کہ اس کے قائل نہیں محض تمسخر اور ہنسی کی راہ سے جلدی کرتے ہیں والذین آمنوا اور جو ایمان لائے ہیں قیامت پر یا اللہ اور اس کے رسول پر اور ان کے کہنے سے قیامت کا برپا ہونا حق جانتے ہیں اس سے ڈرتے ہیں الاان الذین الخ کہ جو قیامت کے برپا ہونے میں شک کرتے ہیں بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ منکرین قیامت کا انکار دنیا کے عیش و نشاط کی مستی سے کرتے تھے اور اسی عالم کو راحت ورنج کا اصلی مقام جانتے تھے اور اپنی دنیاوی کامیابی کو خدا کی خوشنودی کا باعث جانتے تھے اس لیے اس کے بعد یہ جملہ ارشاد فرمایا اللہ لطیف بعبادہ یرزق من یشاء کہ اللہ اپنے بندوں پر مہربانی کرتا ہے اس لیے دنیا میں ہر ایک نیک و بد کو روزی دیتا ہے۔ نہ یہ اس کی رضامندی کی دلیل ہے نہ اس بات کی کہ یہی عالم مقام اصلی ہے۔ دشمن کو باوجود ناراضی کے کھانا پینا قید میں دے دیا کرتے ہیں پھر کیا یہ رضامندی کی دلیل ہوسکتی ہے ؟ اور صرف وہ لطیف ہی نہیں کہ سرکشوں بدکاروں کو سزا دینے پر قادر نہ ہو بلکہ وہوالقوی العزیز قوت والا زبردست بھی ہے۔ اس تمام جملہ کو قیامت کے ساتھ یہ بھی تعلق ہے کہ اللہ کی صفت لطف و قوت کا یہی مقتضا ہے کہ وہ اپنی مہربانی سے دارآخرت میں نیکوں کو رزق و سرور ابدی عطا کرے اور بدکاروں ‘ شریروں ‘ ظالموں سے قوت جبروت کے ساتھ پیش آوے مگر دنیا اس کا مقام اصلی نہیں۔ بلکہ یہ نیکی اور بدی حاصل کرنے کا کھیت ہے پس من کان یرید حرث الآخرۃ نزدلہ فی حرثہ حرث کے معنی لغت میں کسب اور کمانے کے ہیں کہتے ہیں ھو یحرث لعیالہ و تحیرث ای یکتسب و منہ و سمی الرجل حارثا اور اس کے اصل معنی زمین میں تخم ریزی کرنا بطور استعارہ کے تشبیہ کے علاقہ سے اس کا اطلاق ثمرات اعمال پر ہونے لگا یعنی جو آخرت کے کمانے میں کوشش اور اس کا ارادہ کرے گا ہم اس کی نیکیاں دوچند کریں گے سات سو تک یا اس کو توفیق زیادہ دیں گے اور خیر کے رستے اس کے لیے آسان کردیں گے اور جو دنیا کا ارادہ کرے گا تو اس میں سے کس قدر دیں گے یہ نہیں کہ جس قدر کوئی دنیا کی حرص کرے سب اس کو ملجاوے مگر مالہ فی الآخرۃ من نصیب آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ اس سے مراد اللہ سے غافل اور آخرت کا منکر ہو کر دنیا حاصل کرنا ہے جو آخرت سے بےنصیب کردیتا ہے نہ کسب معاش حلال طور پر اپنے نفس و اہل و عیال کی پرورش کے لیے کس لیے کہ یہ ضروری ہے بقدر ضرورت۔
Top