Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو کوئی چاہتا ہو آخرت کی کھیتی زیادہ کریں ہم اس کے واسطے اس کی کھیتی اور جو کوئی چاہتا ہو دنیا کی کھیتی اس کو دیویں ہم کچھ اس میں سے اور اس کے لئے نہیں آخرت میں کچھ حصہ۔
(حاشیہ) شکر نعمت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
24 ربیع الثانی 1392 ھ روز چہار شنبہ کی صبح کو ”معارف القرآن“ کی تفسیر یہاں تک پہنچانے اور دارالعلوم کے دوسرے کام کرنے کے بعد نماز ظہر ادا کی اور یہ اوراق تکیہ کے نیچے دبا کر رکھے۔ کہ کھانے کے بعد تھوڑا سا آرام کر کے پھر تفسیر کا کام شروع کروں گا مگر انسان اور اس کے ارادوں کی کمزوری کا اندازہ اس سے کیجئے کہ آج پورے چھپن دن کے بعد 2 جمادی الثانیہ 1392 ھ بروز چہار شنبہ کو دوبارہ اس کاغذ پر قلم لگانے کی نوبت اس کے بعد آئی کہ ایک عرصہ تک زندگی سے مایوسی رہی، اور ڈیڑھ پارہ قرآن کی تفسیر جو لکھنا باقی تھی اس کی تکمیل کی وصیت اپنے برخور دار صالح مولوی محمد تقی سلمہ کو کر کے اپنی حسرت کا تھوڑا سا تدارک کرچکا اور دل کو فارغ کرچکا تھا۔ واقعہ یہ ہوا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد ہی میرے سینے میں شدید درد ہوا جو اگلے روز ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق میرے قلب پر شدید حملہ (ہارٹ اٹیک) ثابت ہوا۔ میرے مخلص محب محترم ڈاکٹر صغیر احمد ہاشمی و امت مکارمہ کو حق تعالیٰ نے میری دوسری زندگی کا ذریعہ بنادیا۔ انہوں نے اپنی خاص تدبیر سے مجھے فوراً امراض قلب کے ہسپتال میں داخل کرا دیا جبکہ میں اپنے اختیار سے اس پر کسی طرح آمادہ نہ تھا۔ کیونکہ ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ سلوک کے جو مشاہدات کرتا آیا تھا ان کے سبب میرا دل کسی طرح مطمئن نہ تھا کہ میں کسی ہسپتال میں خصوصاً موت وحیات کی کشمکش کے حال میں داخل ہوں مگر موصوف نے کچھ تدبیریں کر کے مجھے وہاں پہنچا دیا۔ بعد میں ثابت ہوگیا کہ وہ ہی میری دوبارہ زندگی کا ظاہری سبب بنا۔ بغیر ہسپتال میں قیام کے علاج ممکن نہیں تھا۔
25 ربیع الثانی 1392 ھ بروز جمعرات کو امراض قلب کے ہسپتال میں داخل ہوا اور بحمد اللہ یہاں کے ڈاکٹر بڑے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ہمدرد اور مہربان بھی ثابت ہوئے۔ چند روز میں اللہ تعالیٰ نے خطرہ سے نکال دیا۔ مزید احتیاطی علاج کے لئے 32 روز مجھے ہسپتال میں رہنا پڑا۔ 11 جولائی 72 ء روز دو شنبہ کو مجھے ہسپتال سے رخصت کیا گیا اور اپنے مکان واقع لسبیلہ میں چند ہفتے قیام کا ارادہ کرلیا۔ یہاں بھی احتیاطی تدابیر اور علاج جاری ہے۔ آج 02 جمادی الثانیہ کو جو اتفاق سے میرے پاکستان کراچی پہنچنے کی تاریخ ہے اور آج پاکستان میں آئے ہوئے مجھے چوبیس سال پورے ہو کر پچیسواں شروع ہو رہا ہے۔ اور بحمداللہ صحت و قوت بھی اب کچھ تدریجاً بڑھ رہی ہے تو اللہ کے نام پر آج یہ اوراق پھر اٹھائے اور یہ حاشیہ لکھ دیا۔
تفسیر معارف القرآن کی صورت حال یہ ہے کہ جب یہ حادثہ مجھے پیش آیا تو میں معارف القرآن کو تقریباً آخر قرآن تک لکھ چکا تھا، ایک خاص سبب سے درمیانی چھٹی منزل رہ گئی تھی اس کو لکھنے کا کام سورة شوریٰ کے اس مقام تک پہنچا تھا۔ آگے تقریباً ڈیڑھ پارہ قرآن کریم کا سورة حجرات تک لکھنا باقی تھا۔ اب حق تعالیٰ نے گویا دوبارہ زندگی عطا فرمائی اور معالج ڈاکٹروں نے کچھ لکھنے پڑھنے کی اجازت دی تو برخوردار مولوی محمد تقی کو ساتھ لگا کر بنام خدا آج پھر یہ کام شروع کیا ہے۔ واللہ المستعان۔
Top