Maarif-ul-Quran - Al-Mulk : 17
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ
اَمْ اَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم کو مَّنْ فِي السَّمَآءِ : اس سے جو آسمان میں ہے اَنْ يُّرْسِلَ : کہ وہ بھیجے عَلَيْكُمْ : تم پر حَاصِبًا : پتھروں کی بارش فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لو گے كَيْفَ نَذِيْرِ : کیسے تھا ڈراؤ میرا
یا نڈر ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے اس بات سے کہ برسا دے تم کو مینہ پتھروں کا سو جان لو گے کیسا ہے میرا ڈرانا
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۭ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْرِ۔ یعنی کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ آسمان والا تم پر آسمان سے پتھر برسا دے، اس وقت تمہیں اس ڈرانے کا انجام معلوم ہوگا کہ اس وقت معلوم ہونا بےسود ہوگا آج جبکہ تم صحیح سالم محفوظ ومامون ہو اس کی فکر کرو اس کے بعد پچھلی ان قوموں کے واقعات کی طرف اشارہ کیا جن پر دنیا میں عذاب الٰہی نازل ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے حال سے عبرت حاصل کرو ولقد کذب الذین من قبلھم فکیف کان تکبر کا یہی مطلب ہے اس کے بعد پھر اصل مضمون سورت کی طرف رجوع ہے کہ ممکنات و مخلوقات کے حالات سے حق تعالیٰ کی توحید اور علم وقدرت پر استدلال ہے خود انسان کے نفوس، آسمان، ستارے، زمین وغیرہ کے حالات کا بیان پہلے آ چکا ہے آگے ان پرندوں کا ذکر ہے جو فضاء آسمانی میں اڑتے پھرتے ہیں۔
Top