Madarik-ut-Tanzil - Al-Mulk : 17
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ
اَمْ اَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم کو مَّنْ فِي السَّمَآءِ : اس سے جو آسمان میں ہے اَنْ يُّرْسِلَ : کہ وہ بھیجے عَلَيْكُمْ : تم پر حَاصِبًا : پتھروں کی بارش فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لو گے كَيْفَ نَذِيْرِ : کیسے تھا ڈراؤ میرا
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے
17 : اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآ ئِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا (کیا تم لوگ اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر ایک ہوائے تند بھیج دے) حاصبؔ: پتھر۔ نحو : ان یرسل یہ بدل الاشتمال سے بدل ہے اور اسی طرح ان یخسف ؔ بھی۔ امؔ بمعنی ھل ہے۔ فَسَتَعْلَمُوْنَ کَیْفَ نَذِیْرِ (پھر عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈر انا کیسا تھا) یعنی جب تم عذاب کو دیکھ لو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا مگر اس وقت کا علم چنداں مفید ثابت نہ ہوگا۔
Top