Tafseer-e-Baghwi - Al-Mulk : 17
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ
اَمْ اَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم کو مَّنْ فِي السَّمَآءِ : اس سے جو آسمان میں ہے اَنْ يُّرْسِلَ : کہ وہ بھیجے عَلَيْكُمْ : تم پر حَاصِبًا : پتھروں کی بارش فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لو گے كَيْفَ نَذِيْرِ : کیسے تھا ڈراؤ میرا
کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے
16 ۔” پھر کفار کو ڈراتے ہوئے فرمایا ” ء امنتم من فی السمائ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے عذاب سے جو آسمان میں ہے اگر تم اس کی نافرمانی کرو۔ ” ان یخسف لکم الارض فاذاھی تمور “ حسن (رح) فرماتے ہیں اپنے اہل کے ساتھ حرکت کرے گی اور کہا گیا ہے ان کو گرا دے گی اور معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دھنسانے کے وقت زمین کو حرکت دیتے حتیٰ کہ وہ ان کو نیچے ڈال کر ان پر بلند ہوجاتی ہے اور لوگ ان پر گزرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ماریمور جب آئے اور جائے۔
Top