Al-Qurtubi - Al-Mulk : 17
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ
اَمْ اَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم کو مَّنْ فِي السَّمَآءِ : اس سے جو آسمان میں ہے اَنْ يُّرْسِلَ : کہ وہ بھیجے عَلَيْكُمْ : تم پر حَاصِبًا : پتھروں کی بارش فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لو گے كَيْفَ نَذِيْرِ : کیسے تھا ڈراؤ میرا
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے
حاصباً یعنی آسمان سے پتھر برسائے جس طرح اس نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور اصحاب فیل پر پتھر برسائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، ایسی ہوا بھیجے جس میں پتھر اور سنگریزے ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایسا بادل بھیجے جس میں پ تھر ہوں۔ نذیر اندازی کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نذیر منذر کے معنی میں ہے۔ مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے تو تم عنقریب آپ ﷺ کی صداقت اور جھٹلانے کا انجام دیکھ لو گے۔
Top