Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 71
وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ
وَلَوِ : اور اگر اتَّبَعَ : پیروی کرتا الْحَقُّ : حق (اللہ) اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات لَفَسَدَتِ : البتہ درہم برہم ہوجاتا السَّمٰوٰتُ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضُ : اور زمین وَمَنْ : اور جو فِيْهِنَّ : ان کے درمیان بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِذِكْرِهِمْ : ان کی نصیحت فَهُمْ : پھر وہ عَنْ ذِكْرِهِمْ : اپنی نصیحت سے مُّعْرِضُوْنَ : روگردانی کرنے والے ہیں
اور اگر (دین) حق کہیں ان لوگوں کی خواہشوں کا تابع ہوجاتا تو آسمان و زمین اور جو ان میں (آباد) ہیں (سب) تباہ ہوجاتے،65۔ بلکہ ہم نے تو ان کے پاس ان کی نصیحت (ہی کی بات) بھیجی سو یہ لوگ اپنی نصیحت سے بھی روگردانی کرتے ہیں،66۔
65۔ اگر دنیا سے نظام حق ناپید ہوجائے تو پہلے تشریعی حیثیت سے اور پھر اس کے نتیجہ کے طور پر تکوینی حیثیت سے نظام عالم ہی درہم وبرہم ہوجائے۔ (آیت) ” ولو اتبع الحق اھوآء ھم “۔ یہ ان منکرین کی خواہش کی طرف اشارہ ہے۔ ان لوگوں کا مذاق اس قدر فاسد ہوچکا تھا کہ اتباع حق کرنا الگ رہا الٹا وہ دین حق کو اپنی ترمیمات کا تختہ مشق بنانے کی فکر میں تھے۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ اسی طرح اہل طریق بھی مریدین کی خواہشوں کا اتباع نہیں کرتے، بلکہ صرف حکمت ومصلحت کا اتباع کرتے ہیں۔ 66۔ (اور اپنے نفع نقصان کی طرف سے اتنے اندھے ہوچکے ہیں)
Top