Tafseer-e-Mazhari - Al-Anbiyaa : 28
یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ
يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے مَا : جو بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ : ان کے ہاتھوں میں (سامنے) وَ : اور مَا خَلْفَهُمْ : جو ان کے پیچھے وَ : اور لَا يَشْفَعُوْنَ : وہ سفارش نہیں کرتے اِلَّا : مگر لِمَنِ : جس کے لیے ارْتَضٰى : اس کی رضا ہو وَهُمْ : اور وہ مِّنْ خَشْيَتِهٖ : اس کے خوف سے مُشْفِقُوْنَ : ڈرتے رہتے ہیں
جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں
یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم اللہ ان کے اگلے پچھلے احوال کو جانتا ہے۔ یہ گویا کلام سابق کی علت ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ سے فرشتوں کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں نہ گزشتہ عمل نہ موجودہ عمل نہ ہونے والا عمل اور چونکہ اللہ ان کے تمام احوال سے واقف ہے اس لئے وہ بھی اپنے احوال کی نگہداشت کرتے اور اعمال کا انضباط رکھتے ہیں۔ ولا یشفعون الا لمن ارتضی وہم من خشیتہ مشفقون۔ اور بجز اس کے جس کے لئے شفاعت کرنے کی خدا تعالیٰ کی مرضی ہو اور کسی کی سفارش نہیں کرسکتے اور وہ سب اللہ کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔ یعنی ہیبت الٰہیہ کی وجہ سے ان کا یہ حال ہے کہ فقط انہی لوگوں کی شفاعت کرتے ہیں جن کے حق میں شفاعت کو اللہ پسند فرماتا ہے اور (یہ شفاعت بھی) ڈرتے ڈرتے کرتے ہیں۔ عظمتِ الٰہیہ کا خوف ان پر چھایا رہتا ہے۔ تعظیم آمیز خوف کو خشیۃ کہا جاتا ہے اس لئے خشیۃ کو علماء کے لئے مخصوص فرما دیا ہے۔ اشفاق کا معنی ہے ڈرنا ‘ خوف کھانا ‘ اس کے بعد لفظ من آتا ہے تو کسی سے خوف کرنا اور ڈرنا مراد ہوتا ہے اور اگر اس کے بعد علیٰ آتا ہے تو کسی کو نقصان پہنچنے اور دکھ پانے سے ڈرنا اور اس پر رحم کھانا مراد ہوتا ہے۔
Top