تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 43
اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ﴿43﴾
- اَمْکیا
- لَهُمْان کے لیے
- اٰلِهَةٌکچھ معبود
- تَمْنَعُهُمْانہیں بچاتے ہیں
- مِّنْ دُوْنِنَاہمارے سوا
- لَا يَسْتَطِيْعُوْنَوہ سکت نہیں رکھتے
- نَصْرَمدد
- اَنْفُسِهِمْاپنے آپ
- وَاور
- لَا هُمْنہ وہ
- مِّنَّاہم سے
- يُصْحَبُوْنَوہ ساتھی پائیں گے
Translation · Al-Qurtubi
کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچا سکیں ؟ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ میں دئیے جائیں گے
Tafseer · Al-Qurtubi
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام لھم الھۃ، ام تھم کا معنی ألھم ہے۔ میم صلہ (زائدہ) ہے۔ تمنعھم من دوننا یعنی من عذابنا ہمارے عذاب سے۔ لا یستطیعون یعنی یہ کفار جہ کہتے ہیں کہ ان کی مدد کریں گے جو اپنی مدد نہیں کرسکتے وہ ان کی مدد کیسے کریں گے ؟ ولا ھم منا یصحبون، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یصحبون کا معنی یمنعون یعنی وہ ہم سے بچائے نہیں جائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا معنی یجارون بھی مروی ہے یعنی وہ پناہ نہیں دیے جائیں گے، یہ طبری کا مختار ہے۔ عرب کہتے ہیں : انلک جارو صاحب من فلان : شاعر نے کہا :
یندی بأعلی صوتہ متعوذا لیصحب منھا و الرماح دوانی
معمر نے ابن ابی نجیح سے انہوں نے مجاہد سے روایت کیا ہے فرمایا : ینصرون یعنی وہ حفاظت نہیں کیے جائیں گے۔ قتادہ نے کہا : اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو انکا ساتھی نہیں بنائے گا۔