تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 44
بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ﴿44﴾
- بَلْبلکہ
- مَتَّعْنَاہم نے سازوسامان دیا
- هٰٓؤُلَآءِان کو
- وَاٰبَآءَهُمْاور ان کے باپ دادا
- حَتّٰىیہانتک کہ
- طَالَدراز ہوگئی
- عَلَيْهِمُان پر۔ کی
- الْعُمُرُعمر
- اَفَلَا يَرَوْنَکیا پس وہ نہیں دیکھتے
- اَنَّا نَاْتِيکہ ہم آرہے ہیں
- الْاَرْضَزمین
- نَنْقُصُهَااس کو گھٹاتے ہوئے
- مِنْسے
- اَطْرَافِهَااس کے کنارے (جمع)
- اَفَهُمُکیا پھر وہ
- الْغٰلِبُوْنَغالب آنے والے
Translation · Al-Qurtubi
بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں ؟
Tafseer · Al-Qurtubi
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل متعنا ھولآء و ابآء ھم حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی ہم نے ان کے لیے اور ان کے لیے اپنی نعمتوں کو پھیلایا۔ طال علیھم العمر اور ان نعمتوں میں عرصہ دراز گزر گیا انہوں نے سمجھا کہ یہ نعمتیں ان سے زائل نہیں ہوں گی پس وہ فریب میں مبتلا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حجج کی تدبیر سے اعراض کیا۔ افلا یرون اناناتی الارض ننقصھا من اطرافھا یعنی اے محمد ﷺ ایک علاقہ کے بعد دوسرے علاقہ پر علبہ اور ایک شہر کے بعد دوسرے شہر کی فتح تمہیں عطا کر کے زمین کو سمیٹ رہے ہیں، یہ اس کا معنی حسن وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : قتل اور قیدہ بنا کر، یہ معنی کلبی نے بیان کیا ہے۔ دونوں کا مفہوم ایک ہے اس پر تفصیلی کلام سورة الرعد میں گزر چکی ہے۔ افھم الغلبون۔ یعنی ان کی اطراف کو سمیٹنے کے بعد کفار مکہ ہی کیا غالب ہیں بلکہ آپ ان پر غالب اور آپ کو ان پر فتح نصیب ہوگی۔