Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 21
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ : یا کون ہے وہ جو يَرْزُقُكُمْ : رزق دے گا تم کو اِنْ اَمْسَكَ : اگر تھام لیا۔ روک لیا رِزْقَهٗ : اس نے رزق اپنا بَلْ لَّجُّوْا : بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں فِيْ عُتُوٍّ : سرکشی میں وَّنُفُوْرٍ : بھاگنے میں
بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں
امن ھذا الذی یرزقکم ان امسک رزقہ . یعنی تم کو رزق کون دے گا اگر خدا اپنا رزق تم سے روک لے یعنی بارش اور رزق پیدا کرنے والے اسباب (فطری) روک لے یا رزق پیدا کرنے والے اسباب کی اثر انگیزی ختم کر دے (بارش ہو ‘ ہوا بھی چلے ‘ زمین میں قوت نامیہ بھی ہو مگر غلّہ پیدا نہ ہو) ۔ اس عبارت کی نحوی تحلیل بھی وہی ہے جیسی مذکورہ بالا عبارت کی ذکر کردی گئی۔ بل لجوا . یعنی کافر بڑھتے جاتے ہیں ‘ (جمے ہوئے ہیں) ۔ فی عتو . گمراہ کنی میں۔ و نفور . اور حق سے دوری اختیار کرنے میں (اوّل کی وجہ) کافروں کی انتہائی جہالت ہے اور (دوسری کا باعث) کافروں کی طبعی نفرت ہے۔
Top