Tafseer-e-Mazhari - Al-Insaan : 30
وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ
وَمَا تَشَآءُوْنَ : اور تم نہیں چاہوگے اِلَّآ : سوائے اَنْ : جو يَّشَآءَ اللّٰهُ ۭ : اللہ چاہے اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ كَانَ : ہے عَلِيْمًا : جاننے والا حَكِيْمًا : حکمت والا
اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو۔ بےشک خدا جاننے والا حکمت والا ہے
وما تشاء ون الان یشاء اللہ . یعنی اے لوگو ! یا اے کافرو ! تمہاری مشیت راہ خدا پر چلنے کے متعلق ہو یا کسی اور چیز کے متعلق۔ کسی وقت بھی اس کا وجود نہیں ہوسکتا مگر اسی وقت تمہاری مشیت کا وجود ہوگا جب خدا کی مشیت تمہاری مشیت کی موجد ہو (یعنی تمہاری مشیت خود بخود پیدا نہیں ہوسکتی ‘ تمہاری مشیت کی ہستی اور تخلیق اللہ کی مشیت پر موقوف ہے) ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمام بنی آدم کے دل ایک دل کی طرح رحمن کی چٹکی میں ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے اس کو پھیر دیتا ہے اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنی طاعت پر موڑ دے۔ (مسلم) چونکہ مؤمنوں کو ہدایت یاب کرنے کی اللہ کی مشیت تھی ‘ اس لیے اس کی مشیت کے موافق اہل ایمان نے اس کی راہ اختیار کی اور کافروں کو ہدایت یاب کرنے کی اس کی مرضی نہ تھی ‘ اس لیے اس نے کافروں کو راہ حق پر چلانا نہ چاہا۔ ان اللہ کان علیما . اللہ ہر شخص کی اہلیت سے خوب واقف ہے۔ اس لیے ہر شخص کو وہی دیتا ہے جس کا وہ اہل ہوتا ہے۔ یہ آیت چاہتی ہے کہ انسانوں میں خیر و شر کی قابلیت پہلے سے ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تعین مؤمن کا مبدأ اللہ کا اسم ہادی ہے اور تعین کافر کا مبدأ اللہ کا اسم مضل۔ حکیما . اللہ حکیم ہے ‘ تقاضائے حکمت کے مطابق اس کی مشیت ہوتی ہے۔
Top