Ruh-ul-Quran - An-Nahl : 4
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ
خَلَقَ : پیدا کیا اس نے الْاِنْسَانَ : انسان مِنْ : سے نُّطْفَةٍ : نطفہ فَاِذَا : پھر ناگہاں هُوَ : وہ خَصِيْمٌ : جھگڑا لو مُّبِيْنٌ : کھلا
اس نے انسان کو ایک ذراسی بوند سے پیدا کیا اور وہ دیکھتے دیکھتے ایک کھلا ہوا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ النحل : 4) (اس نے انسان کو ایک ذراسی بوند سے پیدا کیا اور وہ دیکھتے دیکھتے ایک کھلا ہوا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا۔ ) اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت اور انسان کی بےبضاعتی گزشتہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے جسے بھی اپنا رسول بنا کے بھیجا اسے یہ حکم دیا کہ لوگوں پر جا کے یہ بات اچھی طرح واضح کردو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الوہیت کا سزاوار نہیں۔ اور یہ بات بھی کہ اِلٰہ چونکہ صرف اللہ تعالیٰ ہے اور تم اس کے بندے اور غلام ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے ڈرنے اور کسی اور کے سامنے جھکنے کا کوئی جواز نہیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اس سے ڈرتا ہے جس کی قوتیں بےپناہ ہوں۔ اور جس سے آدمی کی احتیاج وابستہ ہو یعنی اس کے سامنے سر اٹھانے کی اس لیے مجال نہ ہو کہ وہ بہت قوتوں والا ہے۔ اور اس سے تعلق توڑنے کی اس لیے ہمت نہ ہو کہ تمام احتیاجات اسی سے پوری ہوتی ہیں۔ چنانحہ اسی پہلو کو سامنے رکھ کر پروردگار نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرتوں کا عالم یہ ہے کہ اس نے ارض و سما پیدا کیے۔ اور ان میں بسنے والی مخلوق اسی کے دسترخوانِ نعمت سے ریزہ چینی کررہی ہیں۔ اس طرح اپنی کمال قدرت اور کمال ربوبیت کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا کہ انسانو ! تم ایک مشت استخوان ہو۔ اس کائنات میں تمہاری حیثیت کوئی قابل ذکر بھی نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی قوتوں کے مقابلے میں تم ذرہ ناچیز سے بھی کم ہو۔ اور اس کی ربوبیت کا ذرا سا تغافل تمہاری موت کے لیے کافی ہے۔ اور پھر یہ دیکھو کیونکہ اس سے تمہاری بےبضاعتی کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کا بھی کہ اس نے تمہیں پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا اور وہ بوند بھی ایسی جسے ناپاک کہا جاتا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اسی بوند سے پیدا ہونے والا انسان جب خوبصورت شکل و صورت لے کر دنیا میں آتا اور پھر پروان چڑھتا ہے حتیٰ کہ بلوغ کی عمر کو پہنچ کر شعور سے بہرہ ور ہوتا اور صلاحیتوں سے بھرپور ہوجاتا ہے تو اپنے ہی مالک کے سامنے حریف اور جھگڑالو بن کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اپنے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت کے مقابل دلائل دیتا اور اپنی بات پر اصرار کرتا ہے۔ اس طرح سے اس کا حجت بازیاں کرنا اور اپنی غیرمعمولی قوتوں کا اظہار کرنا ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا اس کی ناپاک جسارت پر کہ جس نے اس کو سب کچھ دیا ہے اور پانی کی بوند سے پیدا کرکے ایسی صلاحیتوں کا پیکر بنایا ہے کہ اب کائنات کا گل سرسبد اسے ہی کہا جاتا ہے، لیکن اسی عطا کرنے والے کے سامنے اکڑ کر کھڑا ہوگیا۔ تصور کیجیے کہ وہ غلام جسے عزت و طاقت مل جائے اور وہ اپنے آقا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی کوشش کرے تو دنیا میں اگر شرافت مٹ نہیں گئی تو ہر شریف آدمی اس کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا۔ اور انسان کا معاملہ اپنے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تو اس سے بھی بڑھ کر سنگین ہے۔ نہ اسے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا احساس ہے، نہ اس کے احسانات کا پاس ہے اور نہ اپنی حدود کا شعور ہے۔ وہ سب کچھ بھول کر سرکشی اور طغیانی کے راستے پر چل نکلا ہے۔ لیکن یہ بھی امرواقع ہے کہ سب انسان یکساں نہیں ہیں۔ اس لیے جن کے اندر انسانیت بالکل دم نہیں توڑ گئی اور قبولیت کی استعداد کی کچھ رمق بھی باقی ہے ان کے سامنے پروردگار اپنی ان نعمتوں کا ذکر فرماتا ہے جنھیں محسوس کرنا ان کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں۔
Top