Tafseer-e-Usmani - An-Nahl : 4
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ
خَلَقَ : پیدا کیا اس نے الْاِنْسَانَ : انسان مِنْ : سے نُّطْفَةٍ : نطفہ فَاِذَا : پھر ناگہاں هُوَ : وہ خَصِيْمٌ : جھگڑا لو مُّبِيْنٌ : کھلا
بنایا آدمی کو ایک بوند سے پھر جبھی ہوگیا جھگڑا کرنے والا بولنے والاف 6 
6  یعنی علویات و سفلیات کا انتظام درست کر کے تم کو پیدا کیا۔ تم خود اپنی خلقت میں غور کرو تو حق تعالیٰ کی عجیب و غریب صنعت وقدرت کا سبق ملے گا۔ تمہاری اصل کیا تھی ؟ ایک قطرہ بےجان، جس میں نہ حس و حرکت تھی نہ شعور و ارادہ، نہ وہ بات کرنے کے قابل تھا، نہ اس لائق تھا کہ کسی معاملہ میں جھگڑ کر اپنا حق منوا دے یا دوسروں پر غالب آجائے۔ اب دیکھو حق تعالیٰ نے اسی قطرہ ناچیز کو کیا سے کیا بنادیا۔ کیسی عجیب صورت عطا کی۔ اور کیسی اعلیٰ قوتیں اور کمالات اس پر فائض کیے جو ایک حرف بولنے پر قادر نہ تھا وہ کیسے لیکچر دینے لگا جس میں ادنیٰ حس و حرکت نہ تھی، اب کس طرح بات بات میں جھگڑے کرنے اور حجتیں نکالنے لگا۔ حتی کہ بعض اوقات مخلوق سے گزر کر خالق کے مقابلہ میں خم ٹھونک کر کھڑا ہوگیا، یہ بھی یاد نہ رکھا کہ میری اصل کیا تھی اور کیسے یہ طاقت حاصل ہوئی (اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ 77؀ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ 78؀ قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَآ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ 79؀ۙ ) 36 ۔ یس :77 تا 79)
Top