Siraj-ul-Bayan - Al-Haaqqa : 9
وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ
وَاِنَّهٗ : اور بیشک وہ لَتَذْكِرَةٌ : البتہ ایک نصیحت لِّلْمُتَّقِيْنَ : متقی لوگوں کے لیے
اور بیشک یہ قرآن تو متقیوں (ف 2) کے لئے نصیحت ہے
2: ان آیات میں قرآن کی صداقت اور حقانیت کے متعلق فرمایا ہے ۔ کہ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کی تشقی ایمان کا پورا پورا سامان موجود ہے ۔ جو پاکباز ہیں جس کے قلب و دماغ میں تعصی وجہل کی تاریکی نہیں ہے ۔ جو دیانتداری کے ساتھ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔ اور خلوص کے ساتھ حق کے خواستگار ہیں ۔ حل لغات :۔ قلیلا ماتومنون ۔ قلیل عربی میں ایسے مواقع پر بالعموم یا قیام کے معنے میں آتا ہے تقول ۔ افترا اور جھوٹ سیکام لے الوتین ۔ رگ ال والحق ثین ۔ یعنی قرآن ثبوت اور حقانفت میں اس مقام پر فائز ہے ۔ جہاں اولیٰ ترین شک بھی راہ نہیں پاسکتا ۔
Top