Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 21
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ : یا کون ہے وہ جو يَرْزُقُكُمْ : رزق دے گا تم کو اِنْ اَمْسَكَ : اگر تھام لیا۔ روک لیا رِزْقَهٗ : اس نے رزق اپنا بَلْ لَّجُّوْا : بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں فِيْ عُتُوٍّ : سرکشی میں وَّنُفُوْرٍ : بھاگنے میں
بتائو، وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے گا اگر وہ اپنی روزی روک لے ! بلکہ یہ لوگ سر کشی اور حق بیزاری پر اڑ گئے ہیں !
قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ’رِزُق‘ یہاں بارش کی تعبیر ہے جو رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ تعبیر قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوئی ہے۔ فرمایا کہ فرض کرو اللہ تعالیٰ اس بارش ہی کو روک لیتا ہے جو تمہارے لیے رزق رسانی کا ذریعہ ہے تو کیا تمہارے پاس ہے کوئی ایسا زور آور جو اس بند دروازے کو ازسر نو کھول دے؟ ’بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَنُفُوْرٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی پر اظہار افسوس ہے کہ اگرچہ ان میں سے کسی سوال کا جواب بھی یہ اثبات میں دینے کی جرأت نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود یہ اپنی سرکشی اور حق بیزاری پر بضد ہیں۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ سوچنے سمجھنے والے ہوں تو ان کو بات سمجھائی جا سکتی ہے لیکن ضد اور ہٹ دھرمی کا کیا علاج!
Top