Al-Quran-al-Kareem - Al-Mulk : 21
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ : یا کون ہے وہ جو يَرْزُقُكُمْ : رزق دے گا تم کو اِنْ اَمْسَكَ : اگر تھام لیا۔ روک لیا رِزْقَهٗ : اس نے رزق اپنا بَلْ لَّجُّوْا : بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں فِيْ عُتُوٍّ : سرکشی میں وَّنُفُوْرٍ : بھاگنے میں
یا وہ کون ہے جو تمہیں رزق دے، اگر وہ اپنا رزق روک لے ؟ بلکہ وہ سرکشی اور بدکنے پر اڑے ہوئے ہیں۔
اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِيْ یَرْزُقُکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَہٗ۔۔۔۔: یعنی اگر اللہ تعالیٰ بارش ہی روک لے تو وہ کون ہے جو بارش برسا دے ؟ یا زمین کو پیداوار سے روک دے یا کسی بھی طریقے سے تمہاری روزی روک دے تو وہ کون ہے جو تمہیں روزی مہیا کر دے ؟ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش مکہ نے نبی ﷺ کے مقابلے میں نافرمانی کی حد کردی تو آپ ﷺ نے ان پر یوسف ؑ جیسی قحط سالی کی بد دعا فرمائی تو ان پر ایسا قحط آیا کہ وہ ہڈیاں تک کھا گئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ قحط اس وقت دور ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ (دیکھئے بخاری ، التفسیر ، باب :(یغشی الناس ھذ ا عذاب الیم) : 4821) لات و منات کے بت بلکہ ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کے جو بت انہوں نے بنائے ہوتے تھے ، ان کے کسی کام نہ آسکے۔
Top