Tadabbur-e-Quran - Al-Insaan : 28
نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا
نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ : ہم نے انہیں پیدا کیا وَشَدَدْنَآ : اور ہم نے مضبوط کئے اَسْرَهُمْ ۚ : ان کے جوڑ وَاِذَا شِئْنَا : اور جب ہم چاہیں بَدَّلْنَآ : ہم بدل دیں اَمْثَالَهُمْ : ان جیسے لوگ تَبْدِيْلًا : بدل کر
ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور جب ہم چاہیں گے ٹھیک ٹھیک انہی کے مانند بدل دیں گے۔
مخالفین کو دھمکی اور ان کے شبہ کا جواب: یہ ان مخالفین کے لیے دھمکی بھی ہے اور اس میں قیامت پر ان کے سب سے بڑے شبہ کا جواب بھی ہے۔ ان کا سب سے بڑا شبہ، جو قرآن میں باربار نقل ہوا ہے، یہی تھا کہ مرنے اور مٹی میں رَل مِل جانے کے بعد یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں! فرمایا کہ ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ بند اور رگ پٹھے مضبوط کیے تو جب ہم ہی نے یہ سب کچھ کیا ہے اور اس سے وہ انکار نہیں کر سکتے تو ہم جب چاہیں گے پھر ان کے رگ پٹھے ازسرنو مضبوط کر کے ان کو اٹھا کھڑا کریں گے۔ جب پہلی بار ہم کو اس کام میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو وہی کام ہمارے لیے دوبارہ کیوں مشکل ہو جائے گا۔ ’شدّ سرًا‘ کے معنی ہڈیوں اور اعصاب کو ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنے کے ہیں۔ ’بَدَّلْنَا أَمْثَالَہُمْ‘ میں جس مثلیت کی طرف اشارہ ہے اس سے مراد یہی جوڑ بند ازسرنو درست کرنے میں مشیت ہے۔
Top