Tafheem-ul-Quran - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں 58 اور اگر غصّہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں، 59
سورة الشُّوْرٰی 57 اللہ پر توکل کو یہاں ایمان لانے کا لازمی تقاضا، اور آخرت کی کامیابی کے لیے ایک ضروری وصف قرار دیا گیا ہے۔ توکل کے معنی یہ ہیں کہ اولاً ، آدمی کو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی پر کامل اعتماد ہو اور وہ یہ سمجھے کہ حقیقت کا جو علم، اخلاق کے جو اصول، حلال و حرام کے جو حدود، اور دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جو قواعد و ضوابط اللہ نے دیے ہیں وہی بر حق ہیں اور انہی کی پیروی میں انسان کی خیر ہے۔ ثانیاً ، آدمی کا بھروسہ اپنی طاقت، قابلیت، اپنے ذرائع و وسائل، اپنی تدابیر، اور اللہ کے سوا دوسروں کی امداد و اعانت پر نہ ہو، بلکہ وہ پوری طرح یہ بات ذہن نشین رکھے کہ دنیا اور آخرت کے ہر معاملے میں اس کی کامیابی کا اصل انحصار اللہ کی توفیق و تائید پر ہے، اور اللہ کی توفیق و تائید کا وہ اسی صورت میں مستحق ہوسکتا ہے جبکہ وہ اس کی رضا کو مقصود بنا کر، اس کے مقرر کی ہوئے حدود کی پابندی کرتے ہوئے کام کرے۔ ثالثاً ، آدمی کو ان وعدوں پر پورا بھروسہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے ایمان و عمل صالح کا رویہ اختیار کرنے والے اور باطل کے بجائے حق کے لیے کام کرنے والے بندوں سے کیے ہیں، اور ان ہی وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے وہ ان تمام فوائد اور منافع اور لذائذ کو لات مار دے جو باطل کی راہ پر جانے کی صورت میں اسے حاصل ہوتے نظر آتے ہوں، اور ان سارے نقصانات اور تکلیفوں اور محرومیوں کو انگیز کر جائے جو حق پر استقامت کی وجہ سے اس کے نصیب میں آئیں۔ توکل کے معنی کی اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان کے ساتھ اس کا کتنا گہرا تعلق ہے، اور اس کے بغیر جو ایمان محض خالی خولی اعتراف و اقرار کی حد تک ہو اس سے وہ شاندار نتائج کیوں نہیں حاصل ہو سکتے جن کا وعدہ ایمان لا کر توکل کرنے والوں سے کیا گیا ہے۔ سورة الشُّوْرٰی 58 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء، حواشی 53۔ 54، الانعام، حواشی 130، 121، جلدو دوم، النحل، حاشیہ 89، نیز سورة نجم، آیت 32۔ سورة الشُّوْرٰی 59 یعنی وہ غصیل اور جھلے نہیں ہوتے، بلکہ نرم خو اور دھیمے مزاج کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی سرشت انتقامی نہیں ہوتی بلکہ وہ بندگان خدا سے درگزر اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے ہیں، اور کسی بات پر غصہ آ بھی جاتا ہے تو اسے پی جاتے ہیں۔ یہ وصف انسان کی بہترین صفات میں سے ہے جسے قرآن مجید میں نہایت قابل تعریف قرار دیا گیا ہے (آل عمران، آیت 134) اور رسول اللہ ﷺ کی کامیابی کے بڑے اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔ (آل عمران، 159)۔ حدیث میں حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ مآ انتقم رسول اللہ ﷺ لنفسہ فی شئ قط الا ان تنتھک حرمَۃ اللہِ (بخاری و مسلم)۔ " رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔ البتہ جب اللہ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کی ہتک کی جاتی تب آپ سزا دیتے تھے۔ "
Top