Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
اور وہ لوگ جو بڑے گناہوں سے اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں اور جب بھی غصے ہوتے ہیں وہ معاف کردیتے ہیں۔
(1) والذین یجتبون کبیر الاثم والفواحش : ایمان و توکل کے بعد پہلے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جن سے اجتناب ضروری ہے، وہ ہیں کبائر و فواحش اور غضب۔ ”کبائر“ کی تعریف کے لئے دیکھیے سورة نساء کی آیت (31)۔ ”الفواحش“ (فاحشۃ“ کی جمع ہے، کوئی بھی قول یا فعل جس کی قباحت حد سے بڑھی ہوئی ہو، مثلاً زنا، قوم لوط کا عمل اور شدید بخل وغیرہ۔ (دیکھیے سورة بقر :268) آیت میں ”کبائر“ کا لفظ عام ہے، جس میں فواحش بھی آجاتے ہیں، مگر ”فواحش“ کا ذکر ان سے نفرت دلانے کے لئے خاص طور پر الگ بھی فرمایا۔ شیخ عبدالرحمان السعدی نے فرمایا کہ فواحش ان بڑے گناہوں کو کہتے ہیں جنکی رغبت انسانی طبیعت میں پائی جاتی ہو۔ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل (32)۔ (2) واذا ما غضبوا ھم یغفرون : غصے کی حالت میں معاف کردینے کا ذکر خاص طور پر فرمایا، کیونکہ یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو نہایت مضبوط ارادے کے مالک ہوں، کیونکہ عموماً غصے میں آدمی عقل و ہوش سے عاری ہوجاتا ہے۔ اس حال میں اپنے آپ پر قابو رکھنا آدمی کی کمال عقل اور ضبط نفس کی دلیل ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، (لیس الشدید بالصرعۃ انما الشدید الذی یملک نفسہ عند الغضب) (بخاری، الادب، باب العذر من الغضب : 6113)”پہلوان وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے، پہلوان صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“ نبی کریم ﷺ میں عفو و درگزر کی خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ (دیکھیے آل عمران : 159) عائشہ ؓ فرماتی ہیں : (ما انتقم رسول اللہ ﷺ لنفسہ فی شیء یوتی الیہ حتی ینتھک من حرمات اللہ فیتقم للہ) (بخاری، الحدود، باب کما لتغریر والادب ؟:6853)”رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کیلئے کسی معاملے کا اتنقام نہیں لیا جو آپ سے کیا گیا۔ ہاں چ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کی خاطر انتقام لیتے۔“ مزید دیکھیے سورة آل عمران (133، 134) خلفائے رشایدن میں بھی یہ وصف بدرجہ کمال موجود تھا، جیسا کہ ان کی سیرت سے ظاہر ہے۔
Top