Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
اور جو لوگ کہ بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بےحیائی سے اور جب غصہ آوے تو وہ معاف کردیتے ہیں
دوسری صفت، (آیت) وَالَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْـفَوَاحِشَ۔ یعنی جو کبیرہ گناہوں سے خصوصاً بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرنے والے ہیں۔ کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ اس کی تفصیل سورة نساء وغیرہ میں پہلے بیان ہوچکی اور احقر نے ایک مختصر سے رسالہ میں کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی پوری فہرست بھی لکھ دی ہے۔ جو گناہ بےلذت کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔
کبیرہ گناہوں میں سبھی گناہ داخل تھے، ان میں سے فواحش کو الگ کر کے بیان فرمانے میں یہ حکمت ہے کہ فواحش کا گناہ عام کبیرہ گناہوں سے زیادہ سخت بھی ہے اور وہ ایک مرض متعدف ہوتے ہیں، جس سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں فواحش کا لفظ ان کاموں کے لئے بولا جاتا ہے جن میں بےحیائی ہو جیسے زنا اور اس کے مقدمات۔ نیز وہ اعمال بد جو ڈھٹائی کے ساتھ علانیہ کئے جاویں وہ بھی فواحش کہلاتے ہیں کہ ان کا وبال بھی نہایت شدید اور پورے انسانی معاشرہ کو خراب کرنے والا ہے۔
تیسری صفت
(آیت) وَاِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ يَغْفِرُوْنَ۔ یعنی وہ جب غصہ میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔ یہ حسن اخلاق کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ کیونکہ کسی کی محبت یا کسی پر غصہ یہ دونوں چیزیں جب غالب آتی ہیں تو اچھے بھلے عاقل فاضل آدمی کو اندھا بہرا کردیتی ہیں۔ وہ جائز، ناجائز، حق و باطل اور اپنے کئے کے نتائج پر غور کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ جس پر غصہ آتا ہے اس کی کوشش یہ ہونے لگتی ہے کہ مقدور بھر اس پر غصہ اتارا جائے۔ مومنین و صالحین کی اللہ تعالیٰ نے یہ صفت بیان فرمائی کہ وہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے کہ غصے کے وقت حق و ناحق کی حدود پر قائم رہیں بلکہ اپنا حق ہوتے ہوئے بھی معاف کردیتے ہیں۔
Top