Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
اور جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائیوں سے بچتے رہتے ہیں اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں،42
42۔ آیت کے الفاظ قابل غور ہیں۔ (آیت) ” یجتنبون کبئر الاثم “۔ بڑے چھوڑے سارے گناہوں سے ہمیشہ بچے رہنا صالحین غیر معصوم کے لئے بھی ممکن نہیں۔ اس لئے بشریت کی اس کمزوری کی رعایت سے ممدوحین تک کیلئے یہ قید لگا دی کہ وہ وہ ہیں جو بڑے بڑے گناہوں سے بچے رہتے ہیں۔ (آیت) ” واذا ما غضبوا ھم یغفرون “۔ اسی طرح موقع مدح وتحسین پر ہی یہ ارشاد نہیں ہوتا کہ صالحین و ابرار کو غصہ سرے سے آتا ہی نہیں۔ غصہ کا اپنے موقع ومحل پر نہ آنا دلیل حلم نہیں، دلیل جبن وبے حمیتی ہے۔ کمال نہیں، نقص ہے، ہنر نہیں عیب ہے، کمال اور ہنر صرف یہ ہے کہ بندہ کہ جب بےمحل وبیجا غصہ آجائے تو اس کے مقتضا پر عمل نہ کرے، بلکہ اپنی طبیعت کو قابو میں رکھے۔ (آیت) ” کبئر الاثم “۔ مراد غالبا اعتقادی گناہوں سے ہے۔ قیل المراد بکبائر الاثم ما یتعلق بالبدع واستخراج الشبھات (کبیر) (آیت) ” والفواحش “۔ مراد غالبا ان گناہوں سے ہے جن کا تعلق بےحیائی اور شہوانیت سے ہے۔ قیل المراد بالفواحش مایتعلق بالقوۃ الشھوانیۃ (کبیر)
Top