Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
اور وہ بچتے ہیں بڑے گناہوں اور کھلی ہوئی بےحیائیوں سے اور جب غصہ ہوتے ہیں تو وہ معاف کردیتے ہیں
-6 آگے کا مضمون …آیات 43-37 آگے کی آیات میں مذکورہ بالا اجر کے مستحقین کی کچھ اور صفتیں بیان فرمائی ہیں جن سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو مسلمان اس دور میں قریش کے مغروروں کے ہاتھوں ہر قسم کے مظالم کا ہدف بنے ہوئے تھے یہاں تک کہ ان کے مظالم سے تنگ آ کر اپنے گھر ور چھوڑنے پر مجبور ہو رہے تھے، وہی اس کے اصلی حق دار ہیں۔ یہ سورة ، جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں، ہجرت کے بالکل قریب نازل ہوئی ہے اس وجہ سے ان صفات کے بیان کا انداز کچھ اس طرح کا ہے جس میں مسلمانوں کے لئے فتح یاب کی بشارت بھی ہے اور آگے کے مراحل میں ان کے فرائض اور ان کی ذمہ داریوں سے متعلق بعض ضروری ہدایات بھی گویا ہجرت سے پہلے ان کو یہ بتا دیا گیا کہ اب تک وہ منتشر افراد کی صورت میں تھے اب اللہ تعالیٰ ان کو ایک ہئیت اجمتاعی و سیاسی میں منظم کرنے کی شکل پیدا کر رہا ہے۔ اب تک وہ مظلوم تھے لیکن اب وقت آ رہا ہے کہ وہ اپنی مداعفت کی قوت بھی حاصل کریں گے اور اس کے لئے اللہ کی طرف سے مجاز بھی ہوں … ان پیش آنے والے حالات میں ان کو کیا رویہ اختیار کرنا ہے اس کی طرف ان آیتوں میں رہنمائی کی گئی ہے لیکن اس رہنمائی کا انداز امر و حکم کا نہیں بلکہ ایمان اور توکل کے لازمی مقتضیات کے باین کا ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی واضحت والذین یجتنبون کبیرا لاثم والفواحش واذا ماغضبوا ھم یغفرون (37) برائیوں کے تین عنوان یعنی یہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہیں جو خدا کی نعمتیں پا کر ظلم، بےحیائی اور بغی و طغیان میں مبتلا ہوئے ہیں بلکہ وہ حق تلفی، بےحیائی اور غصہ و اتنقام کی قسم کے تمام بڑے جرائم سے اجتناب کرنے والے ہیں۔ اس اسلوب بیان میں مخالف گروہ پر جو تعریض ہے وہ وضاحت کی محتاج نہیں ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہاں تمام برائیوں کو تینع نوانوں کے تحت سمیٹ دیا گیا۔ اثم، فحتساء اور غضب … اثم سے مراد وہ برئایاں ہیں جو حق تلفی، ناانصافی اور ظلم کی نوعیت کی ہوں۔ فحشاء سے وہ برئایاں مراد ہیں جو شہوات اور خواہشات نفس کی راہ سے ابھری ہیں۔ غضب، انانیت، خود سری اور استکبار سے وجود میں آتا ہے اور طغیان و فساد اور بغی و جبر کو جنم دیتا ہے۔ یہاں ان برائیوں کے صرف کبائر سے بچتے رہنے کا ذکر ہے۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان خیر و شر کے دو متضاد داعیات کی کشمکش کے اندر امتحان میں ڈالا گیا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ اس سے یہ نہیں ہے کہ وہ بالکل معصوم ہو کر زندگی گزارے۔ اگر یہ بوجھ اس پر ڈالا جاتا تو یہ اس کے لئے ناقابل برداشت ہوجاتا۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے صرف یہ چاہا ہے کہ وہ بڑے گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرے۔ اگر وہ بڑی برائیوں سے بچتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی چھوٹی غلطیوں سے درگزر فرمائے گا۔ دوسری یہ کہ چھوٹی برائیوں سے بچنے کا بھی صحیح طریقہ یہی ہے کہ آدمی بڑی برائیوں سے اجتناب کرے۔ جو شخص بڑی بڑی امانتیں ادا کرتا ہے اس کا ضمیر اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی چھوٹی سی امانت میں خیانت کر کے فائن کہلانے کا ننگ گوارا کرے۔ اسی طرح اللہ کا جو بندہ بڑی برائیوں سے اپنے کو بچاتا ہے وہ یہ نہیں پسند کرتا کہ چھوٹی چھوٹی برائیوں کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اجر کو برباد کرے۔ جو شخص اشرفیوں کی چوری سے اجتناب کرے گا وہ دھیلے اور پیسے کی چوری کرنے والا نہیں بنے گا۔ اگر اس طرح کی کوئی حرکت اس سے صادر ہوگی بھی تو سہواً ہی ہوگی، عملاً نہیں ہوگی۔ ال بتہ جو لوگ مچھر کو چھانتے ہیں ان کو اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ اونٹ کو نگل جانے والے ہوتے ہیں۔ واذا ماغضبوا ھم یغفرون کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ جہاں تک غصہ کے آنے کا تعلق ہے وہ تو ان کو آتا ہے اس لئے کہ غصہ انسان کی حمیت، غیرت اور عزت نفس کا ایک فطری تقاضا ہے لیکن یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس غصہ سے بےقابو ہو کر اپنی عقل سے دست بردار اور خدا کے حودود سے متجاوز ہوجائیں بلکہ وہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھتے ہیں اور ان لوگوں کو معاف کردیا کرتے ہیں جن کی حرکتیں اگرچہ غصہ دلانے والی ہوتی ہیں لیکن مختلف وجوہ سے وہ مستحق ہوتے ہیں کہ ان سے درگزر کی جائے۔ اس میں در پردہ مسلمانوں کو اس بات کی تلقین بھی ہے کہ ہرچند تمہارے دشمنوں کا رویہ نہایت اشتعال انگیز ہے لیکن ابھی یہی بہتر ہے کہ ان سے درگزر کرو یہاں تک کہ ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے۔ آگے کی آیات میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔ یہاں ضمیر ھم کے اظہار سے جملہ میں یہ زور پیدا ہوگیا ہے۔ کہ اگرچہ یہ کام ہے نہایت کٹھن لیکن مستحق آفرین ہیں وہ لوگ جو یہ کڑوے گھونٹ حلق سے اتارتے ہیں۔
Top