Mutaliya-e-Quran - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جا تے ہیں
وَالَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ [ اور جو لوگ دور رہتے ہیں ] كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ [ گناہ کے بڑوں سے ] وَالْـفَوَاحِشَ [ اور بےحیاؤں سے ] وَاِذَا مَا [ اور جس وقت ] غَضِبُوْا [ وہ غضبناک ہوتے ہیں ] هُمْ يَغْفِرُوْنَ [ تو وہ لوگ بخش دیتے ہیں ] نوٹ ۔ 1: یہاں (آیت ۔ 37) برائیوں کے صرف کبائر سے بچنے کا ذکر ہے ۔ اس کی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ انسان خیر وشر کے دو متضاد داعیات کی کشمکش کے اندر امتحان میں ڈالا گیا ہے ۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ اس سے یہ نہیں ہے کہ وہ بالکل معصوم ہوکر زندگی گزارے ۔ اللہ تعالیٰ اس سے صرف یہ چاہتا ہے کہ وہ بڑے بڑے گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرے ۔ اگر وہ بڑی برائیوں سے بچتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی چھوٹی غلطیوں سے درگزر فرمائے گا ۔ دوسری یہ کہ چھوٹی برائیوں سے بچنے کا صحیح طریقہ بھی یہی ہے کہ آدمی بڑی برائیوں سے اجتناب کرے ۔ جو شخص اشرفیوں کی چوری سے اجتناب کرے گا وہ دھیلے اور پیسے کی چوری کرنے والا نہیں بنے گا ۔ اگر اس طرح کی کوئی حرکت اس سے صادر ہوگی بھی تو سہوا ہی ہوگئی ، عمدا نہیں ہوگی ۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2 جہاں معاف کرنا مناسب ہو معاف کرے ۔ مثلا ایک شخص کی حرکت پر غصہ آیا ۔ اس نے ندامت کے ساتھ اپنے قصور کا اعتراف کرلیا تو معاف کردیا ۔ یہ محمود ہے۔ اور جہاں بدلہ لینا مصلحت ہو، مثلا کوئی خواہ مخواہ چڑھتا ہی چلا آئے یا جواب نہ دینے سے اس کا حوصلہ بڑھتا ہے یا دین کی اہانت اور جماعت مسلمین کی تذلیل ہوتی ہے ، ایسی حالت میں بدلہ لیتے ہیں ، وہ بھی بقدر اس کی زیادتی کے جرم سے زاید سزا نہیں دیتے ۔ (ترجمہ شیخ الہند ) ۔ بی بی عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کیلئے انتقام نہیں لیا ۔ البتہ جب اللہ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کی ہتک کی جاتی تب آپ سزا دیتے تھے ۔ (تفہیم القرآن )
Top