Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں
37: وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ (اور وہ لوگ جو پرہیز کرتے ہیں) نحو : اس کا عطف الذین ٰامنوا پر ہے اور اسی طرح اس کا مابعد کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ (بڑے گناہوں سے) یعنی بڑے گناہ جو اس جنس سے ہیں۔ قراءت : علی، حمزہ نے کبیر الاثم پڑھا ہے۔ قول ابن عباس ؓ کبیرالاثم سے شرک مراد ہے۔ وَالْفَوَاحِشَ (اور بےحیائی کی باتوں سے) ایک قول یہ ہے جس کی قباحت زیادہ ہو وہ فاحشہ ہے جیسے زنا وَاِذَا مَاغَضِبُوْا (اور جب ان کو غصہ آتا ہے) اپنے کسی دنیاوی معاملے میں ھُمْ یَغْفِرُوْنَ (وہ معاف کردیتے ہیں) وہ غصہ کی حالت میں معاف کرنے کی خصوصیت رکھتے ہیں۔ نحو : آیت میں ھمؔ اور پھر اس کو بطور مبتدأ لانا۔ اور یغفرون کی اسناد خصوصاً اس کی طرف کرنا۔ اسی خصوصیت کے اظہار کیلئے ہے۔ وھم ینتصرون میں یہی نکتہ پیش نظر رکھیں۔
Top