Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
اور جو بچتے ہیں بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے، اور جب غضبناک ہوتے ہیں تو وہ معاف کردیتے ہیں
وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَالْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَاغَضِبُوْا ھُمْ یَغْفِرُوْنَ ۔ (الشوری : 37) (اور جو بچتے ہیں بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے، اور جب غضبناک ہوتے ہیں تو وہ معاف کردیتے ہیں۔ ) ایمان اور توکل سے پیدا ہونے والی تین مزید صفات صاحبِ ایمان لوگوں کی مزید ان صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے جو ایمان اور توکل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ جو کہنے کو تو تین قسم کی صفات ہیں، لیکن حقیقت میں زندگی کے تمام منفی روئیوں کو سمیٹ لیا گیا ہے۔ انسانی سیرت و کردار میں جب بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو فکری گمراہیوں کے ساتھ ساتھ جو عملی کو تاہیاں پیدا ہوتی ہیں ان میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بےنیاز ہو کر اپنی ذات کے گنبد میں ایسا اسیر ہوتا ہے کہ خودغرضی اس کا مطلوب بن جاتی ہے۔ وہ دوسروں کی حق تلفی کرتا ہے، حقوق چھینتا ہے، ناانصافی اور ظلم سے کام لیتا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جسے قرآن کریم نے اثم کا نام دیا ہے۔ اور اس لوٹ کھسوٹ، خودغرضی اور حب دنیا کے نتیجے میں جو برائی سر اٹھاتی ہے وہ بےحیائی یعنی شرم و حیاء کا فقدان ہے۔ آدمی اللہ تعالیٰ سے بےنیاز ہو کر انسانی زندگی سے بھی بےنیاز ہوجاتا ہے۔ شرم و حیاء انسانی زندگی کا خاصہ ہے۔ لیکن جب بگاڑ زور دکھاتا ہے تو انسان، انسانی خصوصیات سے بےبہرہ ہوجاتا ہے اور اس کی سیرت و کردار کی جو ضمانت شرم و حیاء کی صورت میں اس کا احاطہ کیے رہتی ہے وہ بھی ختم ہونے لگتی ہے اور انسان سب سے پہلے نگاہ آوارہ کا شکار ہوتا ہے، پھر قدم آگے بڑھتا ہے تو زبان بےقابو ہونے لگتی ہے۔ آخر وہ اس بڑے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے جس کے بعد شرم و حیاء کا ہر ٹان کہ ٹوٹ جاتا ہے جسے زنا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے اسے لپیٹتے ہوئے فاحشہ کا نام دیا ہے۔ انسانی سیرت و کردار کے بگاڑ کے بعد جو خصلتیں انسان میں پیدا ہونے لگتی ہیں بالخصوص دوسرے انسانوں کے سامنے جن کا اظہار ہوتا ہے، وہ تکبر، خودسری اور حد سے بڑھی ہوئی انانیت کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں طغیان و فساد اور دوسروں پر درازدستی اور ظلم جنم لیتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کے منبع کی خبر دیتے ہوئے اسے غضب سے تعبیر کیا ہے۔ اس لیے صاحب ایمان و توکل لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ حق تلفی اور حق شکنی کی ایسی ہر کوشش سے تائب ہوجاتے ہیں جو انھیں اس راستے کے کسی بڑے گناہ تک پہنچا دے۔ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ پہلے چھوٹے گناہ کرتا ہے۔ یعنی ایسے گناہ جنھیں صراحتہً نہ حرام کہا گیا نہ لعنت کی گئی اور نہ اس پر عذاب کی دھمکی دی گئی اور نہ معذب قوموں کا شعار رہا۔ ایسی عام سی باتیں جو بےخیالی میں انسانوں سے سرزد ہوتی ہیں لیکن وہ اسلامی مزاج سے میل نہیں کھاتیں۔ لیکن جب وہ اس طرح کے گناہوں پر دلیر ہوجاتا ہے تو پھر وہ ایسے بڑے گناہوں میں مبتلاء ہوئے بغیر نہیں رہتا جنھیں صاف صاف حرام قرار دیا گیا ہے اور یا ان پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اس آیت میں یہ فرمایا گیا کہ وہ بڑے گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اولاً تو صغیرہ گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتے اور ان کی پاکیزہ سیرت ان کے تحمل سے انکار کرتی ہے۔ لیکن اگر کبھی ایسی کوئی بات ان سے سرزد ہوجائے تو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ کبھی بڑے گناہوں میں مبتلا نہیں ہوتے۔ گویا بڑے گناہوں سے اجتناب کا ذکر فرما کر گناہوں کے تصور سے ہی اجتناب کا حکم دے دیا گیا، اور اللہ تعالیٰ کے صاحب ایمان بندوں کے بارے میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ ان کی سیرت ایسی پاکیزہ اور ان کی فطرت ایسی مصفا ہوجاتی ہے کہ اس میں گناہ کا تصور بار نہیں پاتا۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ وہ فواحش سے اجتناب کرتے ہیں۔ یعنی شرم و حیاء ان کا ایسا زیور ہے کہ کوئی سی بےحیائی انھیں اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ سر جھکا کے چلنا، نگاہوں کو آوارہ ہونے سے بچانا، مخلوط مجالس سے دور رہنا اور ایسی ہر دلچسپی کے قریب نہ جانا جو فسق و فجور کا مزاج رکھتی ہے، یہ ان کی علامت بن جاتا ہے۔ چونکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے دین پر چلنے والے اتباعِ سنت کے حریص اور ہر قدم پر قیامت کے دن کی جواب دہی کا احساس رکھنے والے ہیں، اس لیے اولاً تو وہ چھوٹوں پر غضبناک نہیں ہوتے اور اگر کبھی ان کا غصہ بھڑک اٹھے تو وہ عموماً معاف کردیا کرتے ہیں۔ سیدنا حسن ( رض) کے بارے میں مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ ان کا ایک بہت چہیتا غلام ایک دفعہ مہمانوں کے لیے کھانا لا رہا تھا، کہیں اس کا پائوں الجھا تو گرم گرم شوربے کا پیالہ اس کے ہاتھ سے اچھل کر حضرت حسن ( رض) کی کمر پر جا گرا۔ گرم شوربے نے کھال ادھیڑ کر رکھ دی۔ انھوں نے نہایت غصے سے اپنے غلام کی طرف دیکھا۔ وہ چونکہ اسی گھر کا تربیت یافتہ تھا، فوراً کہنے لگا ! وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ ” اللہ سے ڈرنے والے غصہ پی جایا کرتے ہیں۔ “ تو حضرت حسن ( رض) نے فوراً نگاہیں جھکا لیں۔ اس نے موقع غنیمت جان کر آیت کا دوسرا جملہ پڑھا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ” وہ لوگوں کو معاف کردیا کرتے ہیں۔ “ حضرت حسن ( رض) نے فرمایا ! جا میں نے تجھے معاف کیا۔ اس نے گرم لوہے پر مزید چوٹ لگاتے ہوئے کہا : وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ” اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ “ حضرت حسن ( رض) نے فرمایا جا میں نے تجھے آزاد کیا۔ مختصر یہ کہ آخری صفت کا حاصل یہ ہے کہ وہ تارک الدنیاراہب یا بھکشو قسم کے لوگ نہیں ہوتے کہ وہ ہر وقت منفعل سے بنے رہیں، بلکہ باوقار اور باغیرت انسانوں کی طرح انھیں غصہ بھی آتا ہے۔ لیکن ان کی سرشت انتقامی نہیں ہوتی۔ وہ لوگوں سے درگزر اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے معاملہ میں نہایت حساس۔ لیکن اپنی ذات کے بارے میں نہایت فراخ دل، حلیم اور بردبار ہوتے ہیں۔ جس طرح حضرت عائشہ ( رض) نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں بیان کیا ہے کہ ما انتقم رسول اللہ ﷺ لنفسہ فی شیء قط الا ان تنتھک حرمۃ اللہ ” رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کی ہتک کی جاتی، تب آپ سزا دیتے تھے۔ “
Top