Al-Quran-al-Kareem - Al-Qasas : 55
وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ
وَهُوَ : اور وہی الَّذِيْ : جو۔ جس سَخَّرَ : مسخر کیا الْبَحْرَ : دریا لِتَاْكُلُوْا : تاکہ تم کھؤ مِنْهُ : اس سے لَحْمًا : گوشت طَرِيًّا : تازہ وَّتَسْتَخْرِجُوْا : اور تم نکالو مِنْهُ : اس سے حِلْيَةً : زیور تَلْبَسُوْنَهَا : تم وہ پہنتے ہو وَتَرَى : اور تم دیکھتے ہو الْفُلْكَ : کشتی مَوَاخِرَ : پانی چیرنے والی فِيْهِ : اس میں وَلِتَبْتَغُوْا : اور تاکہ تلاش کرو مِنْ : سے فَضْلِهٖ : اس کا فضل وَلَعَلَّكُمْ : اور تاکہ تم تَشْكُرُوْنَ : شکر کرو
اور جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اسے ٹال جاتے ہیں اور (ایسے لوگوں سے) کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے۔
[30] یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ کچھ عیسائی حبشہ سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی خبر سن کر مکہ آئے کہ آپ ﷺ کے بارے میں تحقیق کریں۔ آپ ﷺ سے بات چیت کی۔ آپ ﷺ نے قرآن پڑھ کر سنایا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور بڑے زور سے آپ ﷺ کی تصدیق کی۔ جب مشرف بہ ایمان ہو کر واپس جانے لگے تو ابو جہل اور دوسرے مشرکین نے ان پر آوازے کسے اور گالیاں دیں۔
Top